اسلام آباد ہائیکورٹ کا شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم

18  مئی‬‮  2023

ا سلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے تھری ایم پی او کے تحت شاہ محمود قریشی کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

دورانِ سماعت جسٹس ارباب طاہر نے ریمارکس دئیے کہ کچھ بھی ہو،آپ کو بتارہے ہیں ٹھیک نہیں ہورہا، کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا جو ملوث ہوگا اسے سزا دیں، جوجلائے گئے وہ پاکستان کے اور ہمارے اثاثے ہیں لیکن عورتوں کو ایسے نہ پکڑا جائے، قانون پرعمل درآمد ہوگا۔اس پر آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ گھریلو خواتین نے اپنے شوہربھی قتل کیے ہیں، گھریلو خواتین کچھ اور سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتی ہیں۔عدالت نے کہا کہ ایک چیزیاد رکھیں، ہماری عدالت سے رہائی کے بعدکسی کوگرفتارکیا توبہت مسئلہ ہوگا، ہماری عدالت کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو سخت نتائج ہوں گے، آپ قانونی کارروائی کریں لیکن یہ کیا کہ آپ نے گھریلوخاتون کو ہی گرفتارکرلیا، ہم شہریارآفریدی کی اہلیہ کا بیان حلفی لے کر انہیں رہا کررہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے شاہ محمود قریشی اور شہریار آفریدی کی اہلیہ کو بھی رہا کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے کہا کہ شہریار آفریدی کی اہلیہ کو بیان حلفی کے بعد رہا کیا جائیگا۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

موضوعات:



کالم



فواد چودھری کا قصور


فواد چودھری ہماری سیاست کے ایک طلسماتی کردار…

ہم بھی کیا لوگ ہیں؟

حافظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ میں انہیں 1995ء سے…

مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)

ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…