اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

پاکستان کی عدالتیں آزاد جموں کشمیر کے فیملی کیسز نہیں سن سکتیں، ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

datetime 28  فروری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کی عدالتیں آزاد جموں کشمیر کے فیملی کیسز نہیں سن سکتیں۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی فیملی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کرنے کے بعد جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

آزاد جموں کشمیر کے ایک خاندان بارے اسلام آباد کی فیملی کورٹ میں مقدمہ کی سماعت کرنے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی گئی تھی جس پر درخواست گزار وکیل خلیق الرحمن سیفی نے موقف اپنایا تھا کہ پاکستان سیٹیزن شپ ایکٹ 1951 کی دفعہ 14b کے تحت آزاد جموں کشمیر کے شہری کو پاکستان کا شہری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لئے پاکستان کی عدالتیں ان کے سول اور خاندانی معاملات سے متعلق مقدمات کی سماعت کے مجاز نہیں ہیںاس کے ساتھ ہائی کورٹ اسلام آباد کے 2016 میں ہونے والے ایک فیصلے کا حوالہ دیا جس کے تحت آزاد کشمیر کے شہری کے مقدمات پاکستان میں نہیں سنے جا سکتے۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ نے اسلام آباد کی ایک فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا جس میں فیملی کورٹ نے نان نفقہ کی ذمہ داری ابرار نامی آزاد کشمیر کے شہری پر ڈالی تھی جس کے خلاف اس کی سابقہ بیوی نے مقدمہ درج کر رکھا تھا۔ (خیال رہے کہ میاں اور بیوی دونوں کا تعلق آزاد جموں کشمیر سے ہے) اور عدالت نے نان و نفقہ سے متعلق کیس کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے خاتون نسیم اختر کے حق میں یکطرفہ فیصلہ سناتے ہوئے نان و نفقہ کی ذمہ داری اس کے شوہر ابرار پر ڈالی جو نو لاکھ روپے تھی اور فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ابرار کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کئے اور ابرار کو گرفتار کیا گیا جس پر ان کے وکیل نے ان کی ضمانت کرواتے ہوئے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی کہ پاکستان کی کسی عدالت کو آزاد جموں کشمیر کے شہری کے خلاف سوائے فوجداری جرم کے کوئی مقدمہ سننے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ اس پر ایڈیشنل سیشن جج نے ان کی اپیل خارج کر دی جس پر وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی جس کی سماعت جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے کی اور دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو پیر کے روز سنایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…