ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پب جی گیم پر پابندی کے لئے درخواست پر سماعت کل پیر کو ہو گی

datetime 30  جنوری‬‮  2022 |

لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ میں پلیئرز ان نان بیٹل گرانڈ (پب جی)کی بندش کے لیے دائر درخوا ست پر سماعت آج( پیر) کے روز ہو گی ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا پب جی پر پابندی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کریں گے۔شہری تنویر احمد کی

جانب سے دائر درخواست میں وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان میں پب جی گیم کے منفی اثرات کے باعث کئی ہلاکتیں ہو چکی ہیں، اس گیم کے استعمال سے نوجوان نسل کی ذہنی صحت اور زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔لاہور میں گزشتہ ہفتے پب جی سے متاثر 14 سالہ لڑکے نے اپنی ماں اور بہن بھائیوں کو قتل کردیا تھا۔پولیس کے مطابق لڑکا معروف آن لائن گیم پب جی کھیلتا تھا اور مبینہ طور پر اس گیم سے متاثر ہو کر اس نے اپنی والدہ اور تین بہن بھائیوں کو قتل کردیا تھا۔درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں آن لائن گیمز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے باقاعدہ قوانین وضع کیے گئے ہیں لیکن پاکستان میں آن لائن گیمز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ۔استدعا ہے کہ عدالت آن لائن گیم پب جی پر فوری پابندی عائد کرنے کا حکم دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…