اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

ہمیں خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے پر اعتراض نہیں، طالبان

datetime 13  اکتوبر‬‮  2021 |

کابل(این این آئی) افغان طالبان نے ملک میں وومن کرکٹ سمیت خواتین کے کھیلوں پر باضابطہ پابندی لگانے کی تردید کردی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اگست میں افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد سے کھیلوں کا مستقبل غیریقینی صورتحال کا شکار ہے۔

سیکڑوں کھلاڑی خصوصا خواتین کھلاڑی یا تو بیرون ملک چلے گئے ہیں یا پھر اسپورٹس سے دور رہ کر خاموشی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ستمبر میں افغان ثقافتی کمیشن کے نائب سربراہ احمد اللہ واثق نے بھی خواتین کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ خواتین کرکٹ کھیلیں، کرکٹ میں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جہاں جسم اور چہرہ نہ چھپایا جاسکتا ہو اور اسلام ایسے لباس کی اجازت نہیں دیتا جس سے بے پردگی ہو۔ یاد رہے کہ 2001 میں امریکی حملے سے قبل افغانستان میں طالبان کی حکومت میں اس وقت بھی خواتین کے کھیلوں پر مکمل پابندی تھی۔عرب ٹی وی نے افغان کرکٹ بورڈ کے نومنتخب چیئرمین عزیز اللہ فضلی سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ان کی طالبان حکومت کے اعلی حکام سے بات ہوئی ہے جنہوں نے کہا ہے کہ سرکاری طور پر خواتین کے کھیلوں خصوصا وومن کرکٹ پر کوئی پابندی نہیں، ہمیں خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے سے کوئی مسئلہ نہیں۔عزیز اللہ فضلی نے بتایا کہ انہیں طالبان نے خواتین کو کرکٹ کھیلنے سے روکنے کا حکم نہیں دیا ہے، ہماری 18 سال سے خواتین کی کرکٹ ٹیم ہے، اگرچہ وہ محدود پیمانے پر ہے، تاہم ہمیں اس معاملے میں اپنے مذہب اور ثقافت کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، اگر خواتین شائستہ لباس پہنیں تو ان کا کھیلوں میں حصہ لینا معیوب نہیں، اسلام میں خواتین کو نیکر پہننے کی اجازت نہیں، جیسا کہ دوسری ٹیمیں پہنتی ہیں، خصوصا فٹ بال میچ میں، لہذا ہمیں اس چیز کا خیال رکھنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…