کئی سائنسدان کرونا ویکسین بوسٹرز لگانے کے مخالف

  بدھ‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2021  |  19:52

نیویارک (این این آئی)بین الاقوامی سائنسدانوں کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ نئی تحقیق کے مطابق کورونا ویکسین کے بوسٹرز اشد ضروری نہیں اور اب تک دستیاب ویکسینز عام لوگوں کو پہلے ٹیکے لگانے کے لیے استعمال کی جانا چاہئیں۔سائنسدانوں کے ایک بین الاقوامی گروپ نے عام شہریوں کو کووڈ ویکسین کا بوسٹر لگانے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کورونا ویکسین کا درست اورمثبت استعمال پہلی مرتبہ لگانے میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ جن کو ابھی تک ویکسین نہیں لگی ہے انہیں بھی ویکیسن لگانا وقت کی ضرورت ہے۔لینسیٹ جریدے میں


شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کو سولہ سائنسدانوں نے مرتب کیا ہے۔ یہ کسی حد تک ایک نظرثانی رپورٹ بھی قرار دی گئی ہے۔ ان سائنسدانوں نے ایسی کئی ریسرچ رپورٹس پر نظرثانی کی ہے، جن میں کورونا ویکسین کی تیار کردہ ویکسینوں کے آزمائشی دور اور کلینیکل آبزرویشن شامل ہیں۔سولہ سائنسدانوں میں امریکی خوراک اور ڈرگ ادارے (ایف ڈی اے) کے سائنسی و طبی ماہرین اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے سائنسی ریسرچرز بھی شامل ہیں۔نظرثانی رپورٹ کے ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ ویکسینیشن کا موجودہ سلسلہ حوصلہ افزا ہے کیونکہ اس نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے ساتھ ساتھ شدید بیماری کی کیفیت کو کم کر دیا ہے۔ان کے مطابق خطرناک ڈیلٹا ویریئنٹ کے خلاف بھی یہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں اور ویکسین شدہ افراد میں ڈیلٹا وائرس کے حملے سے ان میں کووڈ انیس بیماری کی شدید علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔ان ماہرین کا خیال ہے کہ ویکسینیشن کے موجودہ سلسلے سے واضح ہوتا ہے کہ عام آبادی کو بوسٹر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان میں وائرس کے شدید حملے میں بھی مدافعتی عمل مناسب سطح پر رہا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ کورونا وائرس کے حالیہ اضافے سے ویکسین شدہ افراد کے مدافعتی عمل میں کمی واقع ہونا ممکن ہے۔رپورٹ کے ریسرچرز کی لیڈر اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سائنسی تحقیقی شعبے کی سربراہ انا ماریا ہیناؤ ریسٹریپو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد دستیاب نہیں کہ عام لوگوں کو بوسٹر لگانے کی فی الحال ضرورت ہے اور اسے درست بھی قرار دیا جائے۔ ہیناؤ ریسٹریپو کے مطابق ویکسین کا بنیادی مقصد لوگوں کے اندر وائرس کے خلاف مدافعت پیدا کرنا ہے اور مختلف اقوام میں ویکسینیشن کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔اس رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ غریب ممالک کی آبادیوں کو اس وقت ویکسین درکار ہے کیونکہ ویکسین نہ ملنے کی وجہ سے ان غریب اقوام کا مدافعتی نظام مسلسل کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔نئی تحقیقی رپورٹ میں ریسرچرز نے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں کورونا وائرس کی موجودہ افزائش کا سبب وہ لوگ ہیں، جنہوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی یا وہ اس کو لگوانے سے دانستہ طور پر گریز کر رہے ہیں کہ وہ سازشی نظریات کے زیر اثر رہتے ہوئے خوف زدہ ہیں۔ ماہرین نے غیر ویکسین شدہ افراد کو وائرس کی منتقلی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔جرمنی اور فرانس میں بوسٹر کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ ابھی تک صرف بزرگ اور بیمار افراد کو لگائے جا رہے ہیں۔ اسرائیل نے بارہ سال تک کے بچوں کو بھی بوسٹر لگانے کی پیشکش کر رکھی ہے۔یونان اور اٹلی کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملکوں میں بھی جلد بوسٹر دستیاب ہو گا۔ دوسری جانب لینسیٹ میگزین میں چھپنے والی رپورٹ میں غریب ملکوں کو ویکسین کی عدم دستیابی کو زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے۔


زیرو پوائنٹ

نئی سیاسی کھچڑی

’’کرکٹ اگر مذہب ہوتا تو پورا برصغیر اس مذہب کا پیروکار ہوتا‘‘ یہ فقرہ کسی نے کہا تھا اور سچ کہا تھا‘ یہ واقعی حقیقت ہے سارک ممالک کرکٹ کے جنون میں مبتلا ہیں اور یہ خواہ کتنے ہی منقسم کیوں نہ ہوں یہ لوگ کرکٹ پر ایک ہو جاتے ہیں‘ پاکستان بھی اس جنون کی اعلیٰ ترین مثال ہے‘ ....مزید پڑھئے‎

’’کرکٹ اگر مذہب ہوتا تو پورا برصغیر اس مذہب کا پیروکار ہوتا‘‘ یہ فقرہ کسی نے کہا تھا اور سچ کہا تھا‘ یہ واقعی حقیقت ہے سارک ممالک کرکٹ کے جنون میں مبتلا ہیں اور یہ خواہ کتنے ہی منقسم کیوں نہ ہوں یہ لوگ کرکٹ پر ایک ہو جاتے ہیں‘ پاکستان بھی اس جنون کی اعلیٰ ترین مثال ہے‘ ....مزید پڑھئے‎