پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سیلابی ریلے سے دریائے راوی کا کٹائو شروع، 10 دیہات کے دریا برد ہونے کا خطرہ

datetime 23  جولائی  2021 |

ساہیوال(این این آئی) نور شاہ کے قریب داد بلوچ گائوں کو دریائے راوی نے کٹائو شروع کر دیا ہے جس سے دس دیہات کے دریا برد ہونے کا خطرہ ہے۔تفصیلات کے مطابق عید کے روز دریائے راوی میں سیلابی پانی کا ریلا آجانے کے سبب دریائے راوی نے کٹائو شروع کر دیا ہے اور درجنوں ایکڑ کھڑی فصلوں کو دریا برد کر نے کے

بعد دریا نے کٹائو کا رخ داد بلوچ گائوں کی طرف جاری ہے۔داد بلوچ گائوں کے دریا برد ہونے کی صورت میں مزید دس دیہات کے دریا برد ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔دریا نے اس وقت داد بلوچ آبادی کے ایک فوڈ انسپکٹر شہامند بلوچ کے گھر کو کٹائو شروع کررکھا ہے ۔گائوں کے مکینوں نے گائوں کو خالی کر دیا ہے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں جن دیگر دیہات کے دریا برد ہونے کا خطرہ ہے ان میںمیں کرم بلوچ، شہامند بلوچ ،لونگاںوالی ، کڑیا ل ،مراد شاہ اور قصبہ نور شاہ کی اضافی پانچ آبادیاں بھی دریا کے کٹائو سے متا ثر ہونگی۔متا ثرہ دیہاتیوں نے محمد خاں بلوچ کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ کٹائو کے تدارک کے لئے دریا میں پتھر ڈال کر کٹائو کو روکا جائے ورنہ سینکڑوں ایکڑکھڑی فصلیں تباہ ہوجائیں گی تین گورنمنٹ کے ہائی سکول اور چار مڈل اور پرائمری سکول اور دو ہیلتھ سینٹر بھی دریا برد ہوجائیں گے۔اس لئے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر نے چاہئیں اور فوری امدادی کاروائیاں شروع کی جائیں ۔ضلعی انتظامیہ کی خاموشی سے متا ثرہ علاقوں کے مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور کٹائو کے شروع ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی خاموشی مکینوں کے لئے باعث تعجب ہے اسلئے وزیرا علیٰ پنجاب اس کا فوری نوٹس لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…