جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور ریلوے اسٹیشن کے جنوب مشرق میں واقع مسجد دائی انگا کی شان و شوکت ویسے ہی برقرار

datetime 27  اپریل‬‮  2021 |

مکوآنہ  (این این آئی )تاریخ کے آئینے میں اگر دیکھا  جائے  تو   لاہور ریلوے اسٹیشن کے جنوب مشرق میں واقع مسجد  دائی انگا کی شان و شوکت ویسے ہی برقرار،  نقش نگاری کا کام بھی اپنی بہترہن حالت میں دکھائی دیتا ہے. مسجد صحن اور ایک بڑے ہال پر مشتمل ہے جس کی دیواروں پر قرآنی آیات لکھی نظر آتی ہیں’ قاری محمد جہانگیر 22 سال سے مسجد میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں

بتاتے ہیں کہ یہ مسجد مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی دایہ  دائی انگا  کے اعزاز میں 1635 میں تعمیر کرائی تھی.  جب شاہ جہاں ہندوستان کے بادشاہ بنے تو انہوں نے اپنی دایہ کی خواہش پر لاہور میں ایک بہت بڑا  غلامی باغ اور اس میں مسجد انگہ تعمیر کروائی.مسجد میں روایتی مغل طرز تعمیر کے مطابق صحن میں وضو کے لئے تالاب موجود ہے جو اب بھی بہتر حالت میں ہے. مسجد کی چھت ہر 3 بڑے گنبد اور 2 مینار ہیں. سکھ دور میں مسجد کو اسلحہ خانے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا،بعد میں ایک انگریز افسر مسٹر کوپ نے اسے اپنی رہائش گاہ بنا لیا. 1903 میں مسلمانوں کے شدید احتجاج کے بعد اسے مسلمانوں کو واپس دیا گیا.قاری محمد جہانگیر کا کہنا ہے کہ ایسے مقامات ہمارے تاریخی ورثے ہیں. حکومت کو چاہیے کہ ان کی دیکھ بھال کے لئے خاطر خواہ انتظامات کرے. مسجد کے مرکزی حصے کو بنیادی طور پر نیلے، سنتری، اور پیلے رنگ قانسی ٹائل کے کام سے سجایا گیا ہے. مسجد کے بیرونی حصے کو عمدہ ٹائل کے کام سے مزین کیا گیا ہے. اس مسجد کے معمار وزیر خان مسجد سے مشابہت رکھتے ہیں.380 سال بعد بھی محرابوں پر کانسی کا نہایت عمدہ کام، آیت قرانی اور خط نسخ میں درود شریف خوش خطی سے تحریر، ایسا کام جس کا دوبارہ ہونا ناممکنات میں تصور کیا جا سکتا ہے۔‎



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…