جمعہ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2026 

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے کورونا وارڈ میں روحانی پیر کا مریضوں پر دم

datetime 15  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے کورونا وارڈ میں روحانی پیر کا مریضوں پر دم، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر سے تعلق رکھنے والے ایک روحانی پیر قاری افتخارجن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی، اس ویڈیو میں وہ پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے کورونا کمپلیکس میں

مبینہ طور پر کووڈ کے مریضوں کو دم کر رہے تھے، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق قاری افتخار مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کا روحانی طریقے سے علاج کرتے ہیں۔ ان کا ایک یوٹیوب چینل بھی ہے جس پر ان کی سرگرمیوں کی ویڈیوز نشر کی جاتی ہیں۔اس ویڈیو نے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایک ’پیر‘ کی کورونا وارڈ میں مریضوں کو دم کرنے پر ہسپتالوں میں حفاظتی پروٹوکول اور احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔اس ویڈیو میں قاری افتخار رات کے اوقات میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے کورونا کمپلیکس پہنچے، ان کے ہمراہ ایک گارڈ اور دیگر افراد بھی تھے۔ انھوں نے ماسک سمیت کورونا وائرس سے بچاؤ کا حفاظتی لباس پہنا اور پھر کورونا وارڈ میں داخل مریضوں پر دم کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران دیگر مریضوں کے رشتہ داروں نے بھی قاری افتخار سے دم کرنے کی درخواست کی جسے انھوں نے قبول کیا اور ان کے مریضوں پر بھی دم کیا۔اس ویڈیو میں قاری افتخار کے سیکرٹری ہسپتال میں موجود افراد کو کوئی کاغذ دیتے ہوئے نظر آئے۔پیر قاری افتخار مریضوں کو دم کرنے کے دوران ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہیں اور پھر چہرے سے ماسک ہٹا کر ان پر دم بھی کرتے۔اس حوالے سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کا کہنا تھا کہ

اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس میں بظاہر سکیورٹی اہلکاروں کی غفلت سامنے آئی ہے تاہم اس بارے میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ اس واقعے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کے کورونا کمپلیکس میں کسی غیر متعلقہ شخص کو جانے کی اجازت نہیں ہے اور اس کے لیے قاری افتخار کو

انتظامیہ سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔جب اس بارے میں پیر قاری افتخار سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے ایک مریض ہسپتال میں زیر علاج تھے اور وہ ان کی عیادت کے لیے گئے تھے۔قار ی افتخار نے کہا کہ میرے ایک جاننے والے مریض سخت بیمار تھے، میں تو اس سے ملنے گیا تھا اور اس کی شفا یابی کے لیے دم اور دعا بھی کی۔پیر قاری افتخار کا کہنا تھا کہ جب وہ ہسپتال پہنچے تو وہاں مریضوں کے رشتہ دار موجود تھے جو

انھیں جانتے تھے اور ان کی موجودگی پر وہ انھیں اپنے اپنے مریضوں کے پاس لے گئے اور ان سے دم کرنے کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ وہ کورونا اور دیگر امراض میں مبتلا افراد کے لیے دعا کرتے ہیں۔ہسپتال میں وزیٹنگ کارڈ بانٹنے کے سوال پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے وہاں کوئی وزیٹنگ کارڈز نہیں دیے بلکہ کاغذ پر لکھی قرآنی آیات دی تھیں جس سے لوگوں کو بیماری میں افاقہ ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…