بدھ‬‮ ، 07 جنوری‬‮ 2026 

شہباز شریف کی ضمانت ، پنجاب حکومت کا ردعمل بھی آگیا

datetime 15  اپریل‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی )معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ عوام کی خدمت کا مشن اور منشور لے کر آئے ہیں۔ عوام کو سہولیات کی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔شادمان لاہور میں سستے رمضان سہولت بازار کے دورہ کے موقع پر ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مہنگائی کی قیادت منافع

خور مافیا کے سرغنہ کر رہے ہیں۔ ان مافیاز نے عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس کر ناجائز منافع کمایا اور جائیدادیں بنائیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ مہنگائی لیگ کا مقابلہ عمران خان اور عثمان بزدار کی ٹیم کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان مافیاز کے آگے ہتھیار نہیں پھینکے گی بلکہ ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔ ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مہنگائی میں چھپے کردار پولٹری مافیا،شوگر مافیا، آٹا مافیا کے بھیانک کرداروں کو قوم کے سامنے عیاں کریں گے اور ان سے ایک ایک پائی کا حساب لیں گے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ آج نوحہ کناں یہ سارے مگرمچھ اپنے دورحکومت میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ نہ کرتے اور بروقت زرعی پالیسی کا اطلاق کرتے تو آج ملک میں سبزیاں، گھی، پھل اور دوسری ضروری اشیائے خورونوش وافر اور سستے داموں دستیاب ہوتیں۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے تاریخی یوٹیلٹی سٹور پیکج دیا جبکہ پنجاب حکومت نے 7ارب سے زائد پیکج سبسڈی کی صورت میں عوام کو فراہم کیا۔ اس پیکج سے پنجاب کے عوام کو 2018ء کی قیمتوں کے مطابق اشیائے ضروریہ فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے عوام کو تاریخی ریلیف پیکج دیا۔ مگر حکومت کی پالیسی اور سٹرکچر پر مناسب انداز میں عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے

کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے چینی مافیا کے گرد شکنجہ کسا پنجاب حکومت کی بہترین حکمت عملی سے آج چینی وافر مقدار میں موجود ہے۔ انتظامیہ کا عوام کو یہ سہولت فراہم کرنے کا لائحہ عمل مناسب نہیں ہے۔ پہلی دفعہ ایکس مل پرائس سے بھی پندرہ سے بیس روپے کم قیمت پر چینی فراہم کی جا رہی ہے۔ سہولت بازار ٹیم حکمت عملی بہتر

کرے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ میڈیا جس طرح عوام کے مسائل حکومت تک پہنچا رہا ہے اسی طرح میڈیا پنجاب حکومت کے عوامی سہولت کے لئے شروع کئے گئے انقلابی اقدامات بھی لوگوں تک پہنچائے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کی ضمانت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ باعزت بری ہو

گئے یا انہوں نے ڈکیتی نہیں کی۔ ایچ96 جو نصرت شہباز کی ملکیت ہے 128ملین کی ٹی ٹیز کی صورت میں ٹرانسفر ہوئے۔ عدالت میں 57فولڈر ، 55والیم، 5لاکھ کاغذات ان کی سیاہ کاریوں کے ثبوت کے ساتھ جڑے ہیں۔ ان کی ضمانت میرٹ پر نہیں ہوئی۔ تین جج جو یہ کیس سن رہے تھے ان کو اسلام آباد تعینات کر دیا گیا۔ حکومت کے

پاس ججز کی تعیناتی کا اختیار نہیں۔ حکومت صرف چیزوں کو بے نقاب کر سکتی ہے۔ تفتیش کر سکتی ہے اور گواہ پیش کر کے عدالتی معاملات میں معاون بن سکتی ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی حکومت اکیلے مافیاز کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ تمام اداروں کو اس حوالے سے کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں ۔ عوام کا خون چوسنے والے مافیاز کو ہرصورت گرفت میں لائیں گے۔

موضوعات:



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…