جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا مریضوں کی جان بچانے والے انجکشنوں کی قیمت میں 200فیصد تک اضافہ ،ہزاروں زندگیاں دائو پر لگ گئیں

datetime 13  اپریل‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)کراچی میڈیسن ہول سیل مارکیٹ حکام نے کہا ہے کہ وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں کو ٹوسی لیزومیب (Tocilizumab)جنیرک نام سے استعمال کرائے جانے والے انجکشن کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔مارکیٹ حکام کے مطابق ڈاکٹر یہ انجکشن وینٹی لیٹر پر موجود

کورونا مریضوں کو بھی استعمال کراتے ہیں اور گزشتہ 20 روز میں اس نام کے 200 ایم جی اور 400 ایم جی والے انجکشن کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔دوا ساز کمپنی متعلقہ انجکشن کو صرف اسپتالوں کو دینے کی پابند ہے، تاہم اس کی قیمت میں 200 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے اس انجکشن کے ایک دو سو ایم جی وائل کی قیمت 39ہزار 689 روپے اور چار سو ایم جی وائل کی قیمت 79 ہزار 378 روپے مقرر کی گئی ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق وہاں دو سو ایم جی کا وائل ڈیڑھ لاکھ تک اور چار سو ایم جی کا وائل چار لاکھ روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو 10 روز میں عالمی وبا کورونا وائرس سے بچا ئوکے لیے کورونا ویکسین کی قیمت مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔سندھ ہائیکورٹ میں کورونا ویکسین اسپوتنک ریلیز کرنے سے متعلق درخواست پر جسٹس ندیم اختر نے سماعت کی۔دوران سماعت عدالت کی جانب سے وفاقی حکومت کو 10 روز میں کورونا ویکسین کی قیمت مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قیمت مقرر ہونے کے بعد قانونی نکات پر فیصلہ دیں گے۔سماعت کے دوران جسٹس ندیم اختر نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ فریقین تحریری دلائل آئندہ سماعت سے قبل جمع کرادیں۔عدالت نے این سی او سی کو بھی اب تک لگائی گئی ویکسینز سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔بعد ازاں عدالت کی جانب سے درخواست کی مزید سماعت 27 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…