2ڈیموں پر کام شروع ہو گیا 

  اتوار‬‮ 11 اپریل‬‮ 2021  |  23:52

کراچی(آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو عام انتخابات سے زیادہ ووٹ ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان کا بیانیہ زندہ ہے ،ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں جمہوریت جیتی ہے ، جب دو پہلون اکھاڑے میں اترتے ہے تو ایک پہلوان جیتا ہے، جولوگ عمران خان کے ووٹوں کا غلط اندازہ کررہے تھےان کو مایوسی ہوئی ہوگی۔کل کے انتخابات یہ بتاتے ہیں کہ مستقبل میں پنجاب کے اندر انتخابات پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ(ن)کے درمیان ہوں گے ،مولانا فضل الرحمن


کو وہ خیرات میں کتنی نشستیں دیتے ہیں، میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ڈسکہ میں سیکورٹی کے زبردست انتظامات کرنے پر رینجرز اور پولیس کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ،براڈ شیٹ کمیشن انکوائری نے سوئس اکائونٹس کھلوانے کے احکامات دئے ہیں اور اس پر بھی کا م شروع ہے، ایف آئی اے میں کئی سالوں سے جو لوگ بر ا جمان ہے ان کو ان جگہوں پر بھیجاجائے گا جہاں ان کی جگہ بنتی ہے۔ان خیالات کاا ظہار انہوں نے اتوار کو یہاں مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے ، ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم ہورہا ہے ، دو ڈیموں پر کام شروع ہے ، وزیراعظم عمران خان گلگت بلتستان جائیں گے اور پیکج کا اعلان کریں گے ، مہنگائی کو وزیراعظم عمران خان خود دیکھ رہے ہیں ،وزیراعظم عمران خان اور حکوت کی پوری کوشش ہوگی کہ ماہ رمضان میں مافیااو رلوٹ مار کا دھندا کنٹرول کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ موجود ہ حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ ان کو نالائق اپوزیشن ملی ہے جو آپس میں اپوزیشن ہے۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ جس ملک میں ختم نبوت کا سپاہی وزیرداخلہ ہو۔ وہاں کسی کو سوچنا بھی نہیں چاہئے کہ اس پربھی کوئی لچک ہوسکتی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان نے قوم کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے کہ ہر چور کا احتساب کریں گے ، غریب کے حالات بہتر بنانے کی کوشش کریں گے ،عمران خان کی بھرپورکوشش ہے کہ اس ملک میں جن لوگوں نے لوٹ مار کی ہے ان کو نکھیل ڈالی جاسکے ،عمران خان نے تمام مافیاکو للکارا ہوا ہے خواہ وہ چینی کا مافیا ، آٹے کا مافیا ہو، گھی کا مافیا ہو یا کاٹن کا مافیاہو، سیاست میں وہ تمام لوگوں سے لڑرہا ہے جس کی وجہ سے


زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎