جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

اس سال پاکستان میں ایک ہی دن روزے اور عید کا اعلان ہوگا حافظ طاہر اشرفی کی پریس کانفرنس

datetime 11  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد( آن لائن )وزیر اعظم کے معاون خصوصی حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا ایک جج تقریر کے دوران کہتا ہے آئین پہلے ہے اور اسلام آباد میں ۔جج صاحب ہم بات کریں گے تو توہین عدالت ہو جائے گی بہتر ہے ملک کے متفقہ معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش نہ کریں ،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جج

کی تقریر کا نوٹس لیں ۔ اتوار کے روز سلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ ایک ہی دن رمضان اور ایک ہی دن عید کا اعلان کریں گے ،رویت پر اتفاق کیلئے اجلاس پشاور میں بلایا گیا ہے،پاکستان میں کسی مسجدمدرسے کوبند نہیں کیاجائے گا، وزیر اعظم عمرا ن خان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ان کے بیان کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے،عمران خان نے یہ کبھی نے کہاکہ عورت جنسی درندگی کاسبب ہے۔ا علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ مساجدکی رجسٹریشن منسوخ کرنیکاپروپیگنڈاکیاگیا ، ملک میں کہیں بھی مساجد یا مدارس کی رجسٹریشن منسوخ نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی حکومت کسی مدرسے یا مسجد پر قبضہ کر رہی ہے،آج مدرسہ اور مسجد پہلے سے زیادہ محفوظ ہے، اس حکومت عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کیا ہے،عبادت اور احتیاط ساتھ ساتھ ہونی چاہیے اس لئے گزشتہ سال کی کورونا ایس اوپیز پراس بار بھی عمل درآمد ہوگا۔

رمضان میں احتیاطی تدابیر کا خیال رکھا جائے،پورے ملک کی مساجد،مدارس میں ایس او پیز پر عمل ہورہاہے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمرا ن خان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ان کے بیان کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے،عمران خان نے یہ کبھی نے

کہاکہ عورت جنسی درندگی کاسبب ہے انہوں نے عریانی اورفحاشی کوجنسی درندگی کاسبب قرار دیاہے،ہمارے سیاسی افرادکانہ دھرناچلانہ پی ڈی ایم چلی وہ دین کو لے آتے ہیں،براہ راست مناظرے کیلئے بھی تیارہوں کہ موجودہ حکومت میں تمام علمامساجداورمدرسے زیادہ محفوظ ہیں۔

حافظ طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک جج نے کہا کہ ”آئین پہلے اسلام بعد میں” میں ان سے کہنا چاہتا ہو ں کہ پاکستان کا آئین قرآن و سنت کے تابع ہے ،اسلام وہ دین ہے جس نے حیوان نوادرات درختوں کو بھی حق دیا،محترم جج آپ قانون دان ہیں آئین پڑھا ہوتا تو یہ نہ ہوتا،چیف جسٹس صاحب کو اس حوالے سے غوروفکر کرنی چاہئے ،ہم بات کریں گے تو کہیں گے کہ توہین عدالت ہو گئی ہے ،ملک کے متفقہ معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش نہ کریں ،امید ہے چیف جسٹس اس حوالے سے ضرور ایکشن لیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…