جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

افواج پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہیں

datetime 9  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہاہے کہ افواج پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہیں، پاکستان رینجرز سندھ کا کراچی میں کرکٹ کی بحالی میں کردار قابل ستائش ہے،امید ہے کامیاب ہونے والے رینجرز کے جوان قومی جذبے سے خدمات سر انجام دینگے۔ جمعہ کو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پاکستان رینجرز سندھ کی 28 ویں پاسنگ آؤٹ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی جس میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ، پریڈ کے شرکاء اور مہمانوں سے خطاب کیا ۔ وزیر داخلہ نے پاکستان رینجرز سندھ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاسنگ

آؤٹ پریڈ کے شرکاء کو کامیابی پر مبارکباد دی ،دوران تربیت نمایاں کارکردگی دکھانے والوں میں انعامات تقسیم کئے گئے ۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ پاکستان رینجرز سندھ کا کراچی میں امن اور ترقی میں کردار بہت نمایاں ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان رینجرز سندھ کا کراچی میں کرکٹ کی بحالی میں کردار قابل ستائش ہے۔ انہوںنے کہاکہ امید ہے کامیاب ہونے والے رینجرز کے جوان قومی جذبے سے خدمات سر انجام دینگے۔انہوںنے کہاکہ پاک افواج پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاک افواج میں شمولیت کسی بھی جوان اور اس کے خاندان لیلئے فخر کی بات ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…