جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

صبح اٹھ کر یہ نہیں سوچتا آفس جا رہاہوں بلکہ جہاد کررہاہوں

datetime 4  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )وزیراعظم عمران خان کاکہناہے کہ پہلی دفعہ گورنمنٹ قانون توڑنے والوں کے پیچھے ہے،صبح اٹھ کر یہ نہیں سوچتا آفس جا رہاہوں میں جہاد کررہاہوں، ساری قوم میرے ساتھ اس جہاد میں کھڑی ہو،اتوار کو ٹیلی فون پر عوام سے براہ راست بات چیت کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم کہا کہ کوئی یہ بات نہیں کرتا

کہ حکومت نے کیا اچھائیاں کیں، ہم نے ملک کوکس طرح استحکام دیا،ہمیں پاکستان ملا تو 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا، آئی ایم ایف سب سے کم سود پر قرضہ دیتا ہے، آئی ایم ایف سے قرضہ ملنے پر دیگر ادارے بھی قرضہ دیتے ہیں، میری باہر کوئی جائیداد نہیں، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے، پاکستان کے مفاد کیخلاف کوئی کام نہیں کروں گا۔ایک اورسوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے صحت کے شعبے میں انقلاب لارہے ہیں، پنجاب، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ سے لوگ علاج کراسکیں گے، پختونخوامیں تمام خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیا گیا ہے، پنجاب میں بھی تمام خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے جارہے ہیں، ہیلتھ کارڈکی سہولت ترقی یافتہ ملکوں میں بھی نہیں۔ اس کے علاوہ ہم اوقاف ، متروکہ وقف املاک اور سرکاری زمینوں پراسپتال بنوائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑاعذاب قبضہ مافیا ہے، یہ بہت طاقتور لوگ ہیں، اس مافیا کو سیاسی لوگوں کی سرپرستی

حاصل ہے، لاہور کے بڑے قبضہ مافیا گروپ کو سیاسی لوگوں کی سرپرستی حاصل تھی، ساڑھے 400 ارب روپے کی سرکاری زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرائی ہے، کئی ہاوَسنگ سوسائٹیز والے پیسے لے کر باہر بھاگ جاتے ہیں، سروے کروا رہے ہیں کہ کونسی ہاوَسنگ سوسائٹیز

قانونی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں وہی لوگ گھر بنا سکتے ہیں جن کے پاس پیسہ ہے، پاکستان میں صفر اعشاریہ 2 فیصد ہاوَسنگ فنانسنگ ہے، پہلی دفعہ حکومت نے تعمیراتی شعبے پر بھرپور توجہ دی ہے، ایف بی آر سے کنسٹرکشن شعبے کے لئے ٹیکس بھی کم کروائے ہیں۔ بینکوں کے صدورسے بات کی ہے کہ ہاوَسنگ فنانسنگ کوآسان بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…