جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

  پٹرول بحران، وزیراعظم کے مشیر پٹرولیم ندیم بابر کے بعد سیکرٹری پٹرولیم کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا

datetime 26  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی حکومت نے ملک میں پٹرول بحران سے متعلق تحقیقات رپورٹ پر فارنزک آڈٹ کا فیصلہ کرلیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق گزشتہ برس کے پٹرول بحران کی تحقیقات کے لئے بنائے انکوائری کمیشن نے سیکریٹری پٹرولیم سمیت کئی افسران پر ذمے داری عائد کی تھی۔پٹرول بحران سے قومی خزانے کو 25 ارب

روپے سے زائد کا نقصان پہنچا تھا۔فارنزکآڈٹ سے پتا لگایا جائے گا کہ پٹرول بحران میں کون کون سی کمپنیاں ملوث تھیں۔ اس کے ذریعے اس بات بھی تعین کیا جاسکے گا کہ کن کمپنیوں نے ذخیرہ اندوزی کی اور کس نے پٹرول بحران سے کتنا پیسا بنایا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے اپنے دست راست ندیم ایس بابر سے پٹرولیم بحران پر استعفیٰ طلب کرلیا ہے جبکہ سیکریٹری پٹرولیم کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے چار وزراء کی رپورٹ پر ندیم بابر اور سیکریٹری پٹرولیم کو عہدوں سے ہٹایا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم امور سے متعلق اپنے دست راست ندیم بابر کو عہدے سے ہٹادیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ندیم بابر کو عہدے سے ہٹایا گیا، انہیں 4 وزراء کی تحقیقاتی کمیٹی نے ذمے دار قرار دیا تھا۔ذرائع کے مطابق پٹرولیم بحران پر بننے والے کمیشن کی رپورٹ کابینہ میں پیش ہوئی تو وزیراعظم عمران خان نے فوری کارروائی کرنے کے بجائے مزید تحقیقات کیلئے 4 وفاقی وزراء کی کمیٹی تشکیل دی تھی۔اس کمیٹی میں وفاقی وزیر اسد عمر، شفقت محمود، شیریں مزاری اور اعظم سواتی شامل تھے۔ رپورٹس کے مطابق چاروں وزراء نے پٹرولیم بحران پر الگ الگ رپورٹس تیار کیں، ان میں

ندیم بابر اور سیکریٹری پٹرولیم کو ذمے دار قرار دیا گیا۔ چاروں وفاقی وزراء کی مجموعی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو آئندہ ہفتے (پیر) کو پیش کردی جائے گی۔وزیراعظم عمران خان کو پیش کی گئی وفاقی وزراء کی کمیٹی کی رپورٹ کابینہ کی منظوری کے بعد پبلک کردی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…