جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب میں عدم اعتماد کی تحریک کا عندیہ دے دیا گیا

datetime 26  مارچ‬‮  2021 |

لاہو ر(این این آئی) پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ اختلاف رائے سے اتحاد اور جماعتیں نہیں ٹوٹنی چاہیں،استعفے دینے کیخلاف نہیں صرف ٹائمنگ پر اختلاف رائے ہے،پنجاب میں چھ سات ووٹوں کے فرق کو سامنے رکھ کر عدم اعتماد کی تحریک لا سکتے ہیں، سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف بھی عدم

تحریک لائی جاسکتی ہے،(ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان تلخی نہیں ہونی چاہیے تھی،پیپلز پارٹی نے کسی کو ماضی میں دھوکہ دیا نہ اج،کبھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں نہیں کھیلے بلکہ اپنے بل بوتے پر آتے ہیں،آرمی چیف سے ملاقاتیں اور لوگ اور جماعتیں کرتی ہیں،الزام ہم پر آتا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتوں کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا اور رکھنا چاہیے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے ورکرز کنونشن سے خطاب اور میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قمر زما ن کائرہ نے کہاکہ فیصل آبادلانگ مارچ کی نئی تاریخ جلد ائیگی،برسی کی بھر پور تیاری کر رکھی تھی،برسی کی اجتماعی تقریب نہ بھی ہوئی تو اضلاع کی سطح پر قرآن خاکوانی کی تقاریب منعقد کرینگے،عوام کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کیخلاف متحد ہیں اداروں پر عوام کا اعتماد نہیں،مزید آرڈیننس جاری کر کے منی بجٹ لایا جا رہا ہے۔یہ سبسیڈیز ختم کرنے جا رہے ہیں جسے مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی کی بات بچوں اور خواتین کی زبان پر ہے۔اس حکومت کا جانا ضروری ہے۔حکومت کیخلاف تحریک شروع ہوتے ہی اپوزیشن کو نوٹس جاری ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔احتساب کے حق میں ہیں،مگر یہ یکطرفہ نہیں ہونا چاہیے۔ایسا نیب بنایا جائے جو تمام اداروں کا بلا امتیاز احتساب کرے۔نیب گردی کیخلاف ساری اپوزیشن اکھٹی

ہے۔سیاسی عمل میں ادارہ جاتی مداخلت بند ہونی چاہیے۔آج بھی اپنے اصولوں پر قائم ہیں۔اختلاف رائے سے اتحاد اور جماعتیں نہیں ٹوٹنی چاہیں۔حکمران نئے نئے ٹیکس لگا کر ٹیکس جمع کرنا چاہتے ہیں۔عوام سے جڑی حکومتیں ہی کامیاب ہوتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ سینٹرل ایگزیکٹو سے فیصلہ لیکر پی ڈی ایم سے ملکر جدوجہد کرینگے۔

استعفے دینے کیخلاف نہیں صرف ٹائمنگ پر اختلاف رائے ہے۔پنجاب میں چھ سات ووٹوں کے فرق کو سامنے رکھ کر عدم اعتماد کی تحریک لا سکتے ہیں۔سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف بھی عدم تحریک لائی جاسکتی ہے۔(ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان تلخی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ہمارے پاس حکومت کو چلتا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ

نہیں۔گیلانی کا الیکشن ہم سے چھینا گیا۔ابہام کو دور کر لیا جائیگا۔پیپلز پارٹی نے کسی کو ماضی میں دھوکہ دیا نہ اج،کبھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں نہیں کھیلے بلکہ اپنے بل بوتے پر آتے ہیں۔آرمی چیف سے ملاقاتیں اور لوگ اور جماعتیں کرتی ہیں،الزام ہم پر آتا ہے۔پی ڈی ایم کی جماعتوں کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا اور رکھنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…