مغربی سسٹم رخصت ،ہوائوں کا رخ تبدیل محکمہ موسمیات نے کراچی والوں کو پیشگی خبردار کردیا

  بدھ‬‮ 24 مارچ‬‮ 2021  |  15:10

کراچی(این این آئی)محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ کراچی میں کل سے گرمی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے، درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری زائد رہنے کا امکان ہے۔ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کے مطابق مارچ میں معمول کا اوسط درجہ حرارت 32.4 ڈگری رہا ہے جبکہ اب کراچی کا درجہ حرارت 36 سے 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفرازکے مطابق مغربی سسٹم رخصت ہونے کے باعث ہوائوں کا رخ تبدیل ہوگا، کراچی میں شمال مغرب سے خشک اور گرم ہوائیں چلیں گی۔انہوں نے بتایاکہ 30 مارچ کے بعد کراچی


کا درجہ حرارت 39 ڈگری تک جاسکتا ہے جبکہ ہیٹ ویوز آنے کے بھی امکانات رہیں گے۔دوسری جانب موسم تبدیل ہوتے ہی کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا آغاز ہو گیا، متعدد علاقوں کے مکین لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں، آنے والی گرمیوں کا سوچ کر ابھی سے کانوں کو ہاتھ لگا لیے۔موسم کی تبدیلی عموما کراچی والوں کی طبیعت پر بھاری ہی پڑتی ہے اور اگر بات ہو سردی سے گرمی میں داخل ہونے کی تو ایسے میں بجلی کی اضافی لوڈشیڈنگ زندگی مزید دشوار بنادیتی ہے۔ یہی حال کراچی والوں کا اس بار بھی ہے، کے الیکٹرک نے بہتری کے دعوے خوب کیے لیکن ابھی گرمی مکمل آئی نہیں اور غیر اعلانیہ بجلی بندش شروع کردی گئی۔گرمی آب و تاب سے آنے کو ہے، کراچی کے شہری ابھیسے بجلی کی سہولت سے محروم ہونے لگے۔کے الیکٹرک کا کراچی کے زیادہ بجلی چوری والے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ ساڑھے سات گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا دعویٰ ایک بار پھرغلط ثابت ہونے لگا۔ ابھی مکمل طور پر گرمی کا موسم بھی نہیں آیا لیکن شہرمیں بجلی بندشمیں واضح اضافہ دیکھاجانے لگا، کے الیکٹرک حکام نے موسم گرما کی مکمل تیاری کا دعوی کیا تھا۔تاہم مارچ کے آغاز سے ہی کے الیکٹرک کی جانب سے تکنیکی خرابی اور مرمت کے نام پر اور اکثر بن بتائے طویل بجلی بندش کی جانے لگی۔ لیاقت آباد، لائنزایریا، پی آئی بی کالونی، ملیر سٹی سمیت متعدد علاقوں کے مکین لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ آنے والی گرمیوں کا سوچ کر ابھی سے کانوں کو ہاتھ لگا لیے۔ صورتحال شہریوں کے لیے پریشان کن ہے لیکن ترجمان کے الیکٹرک لوڈشیڈنگ میں اضافے کی نفی کرتے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎