جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

طاقتور قوتیں ملک کی محافظ بنیں ایک ناجائز کی محافظ نہ بنیں، مولانا فضل الرحمن کا مطالبہ

datetime 18  مارچ‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد ( آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ طاقتور قوتیں ملک کی محافظ بنیں ایک ناجائز کی محافظ نہ بنیں، ہم ملک کے وفادار ہیں،ہر ایک کو اپنے دائرے کے اوپر واپس جانا ہوگا،تحریکوں میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں ،اگر تحریکوں میں کئی پارٹیاں ہوں تو ساتھ چلانا سیاست کا مشکل ترین وقت

ہوتا ہے ،اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم خوش اسلوبی کیساتھ اپنی تحریک کو آگے بڑھائیگا ،جے یوآئی قوم کو مایوس نہیں ہونے دے گی ،ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں ہونے دیں گے،ہم پاکستان کے ساتھ تھے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔جمعرات کو یہاں جے یو آئی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم نے اپنی تمام زندگی حق کی بالادستی کیلئے وقف کردی۔انہوںنے کہاکہ ہمیں فرقہ واریت کا سامنا ہے ،اسلام ایک عالمگیر دین ہے، ہم دین اسلام کے داعی ہیں ،تعصب، نفرت اور لسانیت سے ہمیں دور رہنا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں ،ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں ،جو قوتیں سمجھتیں ہیں اس نالائق حکومت کو سہارادیں گے ان کو بھی سوچنا ہوگا ،ہم نے اگر سیاست کرنی ہے تو ملک کو سمجھنا ہوگا ،ایک ہمارا الیکشن ہم سے چوری کیا گیا ،دوسروں کو چور کہنے والے پوری الیکشن چوری کہتے ہیں ،پھر دھڑلے سے کہتے ہیں ہم نے نہیں کیا۔انہوںنے کہاکہ ہم ملک کے وفادار ہیں،ہر ایک کو اپنے دائرے کے اوپر واپس جانا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ ایک ادارہ یہ سمجھے میرے ساتھ اگر وفادار ہے تو پاکستان کے ساتھ وفادار ہیں ،ہم اپنے بڑھ کر زیادہ وفادار ہیں ،ہمارے ساتھ اختلاف ملک کیلئے کریں ،ہم ایک قوم کے تصور کے ساتھ ملک میں رہنا چاہتے ہیں ،ہمارے ملک پر ناجائز

حکومت مسلط کردی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ اڑھائی سال میں ثابت کردیا ہے کہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ،پانچ سال گزر جائیں گے آپ یہی کہتے رہیں گے ،اپنی نااہلی تسلیم کرو اور اقتدار چھوڑ دو ،طاقتور قوتیں ملک کی محافظ بنیں ایک ناجائز کی محافظ نہ بنیں۔ انہوں نے کہاکہ جے یوآئی پہلے دن سے جہاں کھڑی تھی آج بھی وہیں

کھڑی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے قربانیاں اس لئے نہیں دیں کہ پیچھے ہٹ جائیں گے ،سیاست میں ہیں تو اقتدار بھی آئے گا اور جیل بھی۔انہوںنے کہاکہ موجودیت حکمران سیاست کے اصول سے واقف نہیں ،جو بین الاقوامی قوتوں کا ایجنٹ بن کر آتا ہے ،کسی ایک بات پر تو شرمندہ ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ تحریکوں میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں ،اگر

تحریکوں میں کئی پارٹیاں ہوں تو ان کو ساتھ چلانا سیاست کا مشکل ترین وقت ہوتا ہے ،پی ڈی ایم خوش اسلوبی کے ساتھ اپنی تحریک کو آگے بڑھائے گا۔انہوں نے کہاکہ سیاست مایوسی کانام نہیں پرامید ہونے اور جرات کا نام ہے،جے یوآئی قوم کو مایوس نہیں ہونے دے گی ،مورچے جنگ میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں ،ایک نئی حکمت کے ساتھ پیچھے آجائیں تو اس میں گناہ نہیں ،ہم نے ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھانا ہے ،اور حکمرانوں کو سکون کی نیند

نہیں سونے دینا۔انہوںنے کہاکہ ہمارے ملک میں ایسی حکومتیں لائی جاتی ہیں تاکہ مغرب کا ایجنڈا ادھر بھی لایا جائے،ہماری پارلیمنٹ اور اداروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے،آج کے حکمران بھی اسی بین الاقوامی ایجنڈے پر ہیں۔انہوںنے کہاکہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ آئین سے اسلامی دفعات ختم کی جائیں تو سن لو جب تک جمعیت ہے اس وقت تک ایسا ممکن نہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں ہونے دیں گے،ہم پاکستان کے ساتھ تھے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…