مغربی ہوائوں کا نیا سلسلہ پاکستان میں داخل موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کردی گئی

  اتوار‬‮ 14 مارچ‬‮ 2021  |  12:32

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، اے پی پی، آن لائن)مغربی ہوائوں کا نیا سلسلہ پاکستان میں داخل ہو گیا ،محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد،بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہوائوں کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برف باری کا امکان ہے۔اسی دوران بعض مقامات پر ژالہ باری کی توقع بھی ہے۔دوسری جانب  محکمہ موسمیات نے ہنزہ کے علاقے حسن آباد میں بننے والی گلیشیائی جھیل کے کسی بھی وقت پھٹنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے الرٹ جاری کردیا۔محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ششپر گلیشیئر


کے سرکنے اور پانی کا بہاؤ رکنے سے حسن آباد ہنزہ میں بننے والی جھیل کے پھٹنے کا خدشہ ہے، گلیشیائی جھیل رواں برس موسم گرما میں درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ پھٹنے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ 3 سے 4 ہفتے بہت اہم ہیں، اس دوران اس کی مسلسل نگرانی ضروری ہے تاکہ کسی ناگہانی صورتحال سے متعلق معلومات حاصل ہوتا رہے۔محکمہ موسمیات نے گلاف الرٹ میں سفارش کی ہے کہ حسن آباد ہنزہ میں آٹومیٹک ویدر اسٹیشن نصب کیا جائے۔ گلاف پراجیکٹ 2 کے ذریعے تجویز کردہ ہائیڈرو میٹیریالوجیکل آلات کی آمد تک ششپر گلیشیئر پر واٹر لیول اور واٹر ڈسچارچ مانیٹرنگ اسٹیشن نصب کیا جائے، اس کے علاوہ گلیشیائی جھیل سے پانی کے اخراج کو یقینی بنانے کےلئے فوری اقدامات بھی کئے جائیں جس کے لئے ہائیڈرالک سائفن تیکنیک استعمال کی جائے تاکہ پانی کے اخراج کے ذریعے ممکنہ خطرے کو کم سے کم کیا جاسکے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎