بلاول بھٹو کسی ایک ایم این اے کا بتائیں جو غیر حاضر تھا،اسپیکر اسد قیصر نے بلاول بھٹو کو چیلنج دیدیا

  پیر‬‮ 8 مارچ‬‮ 2021  |  23:42

اسلام آباد (این این آئی)اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کے ووٹ کے معاملے پر قومی اسمبلی میں حاضری پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو چیلنج دیتے ہوئے کہاہے کہ بلاول بھٹو کسی ایک ایم این اے کا بتائیں جو غیر ایوان سے حاضر تھا،چیئرمین سینیٹ کے اپوزیشن اور حکومتیارکان ایوان بالا سے اچھے تعلقات ہیں، امید ہے سب کی چوائس صادق سنجرانی ہوں گے۔ایک بیان میں اسپیکر اسد قیصر نے اعتماد کے ووٹ سے متعلق اجلاس پر پی پی چیئرمین کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو


کہتا ہوں کہ وہ آئیں جو چاہیں تسلی کرلیں۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا اور میڈیا دیکھ رہا تھا، ایک بھی ایم این اے کا بتائیں جو کم تھا؟ بلاول بھٹو کسی ایک ایم این اے کا بتائیں جو غیر حاضر تھا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میں کبھی ایسا کام نہیں کرتا، جس سے تاریخ خراب ہو، کسی صورت قانون و آئین کے خلاف کام نہیں کروں گا۔اْن کا کہنا تھا کہ صادق سنجرانی نے بطور چیئرمین سینیٹ ایوان بالا کو مثالی انداز میں چلایا اور اپوزیشن کو برابر کا موقع دیا۔اسد قیصر نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے اپوزیشن اور حکومتی ارکان ایوان بالا سے اچھے تعلقات ہیں، امید ہے سب کی چوائس صادق سنجرانی ہوں گے۔اسپیکر اسد قیصر کے چیلنج سے قبل قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے 6 مارچ کے اجلاس کی حاضری کے حوالے سے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ جاری کی تھی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کے ووٹ کے معاملے پر قومی اسمبلی میں حاضری پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو چیلنج دیتے ہوئے کہاہے کہ بلاول بھٹو کسی ایک ایم این اے کا بتائیں جو غیر ایوان سے حاضر تھا


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎