جماعت اسلامی کے رکن نے عمران خان کو ووٹ دینے سے انکارکر دیا

  ہفتہ‬‮ 6 مارچ‬‮ 2021  |  17:44

اسلام آباد (این این آئی)جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کردیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم کو ووٹ نہ دینے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ میں اپنی جماعت کی پالیسی پر عمل کرتا ہوں۔مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ میں ان کوکہوں گا کہان لوٹوں سے اعتماد کا ووٹ نہ لیں بلکہ عوام سے لیں۔سینٹ میں اسلام آباد کی نشست پر اپ سیٹ شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا، 178 اراکین نے وزیراعظم پراعتماد


کا اظہار کیا،ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے 172 ووٹ درکار تھے۔قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس دن سوا 12بجے شروع ہوا اور تلاوت کلام پاک اور نعت رسول ؐمقبول پیش کی گئی جس کے بعد قومی ترانا پڑھا گیا۔وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے ایک نکاتی ایجنڈے پر ہونے والے اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ایوان میں قراداد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پر اعتماد بحال کرتی ہے جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 91 کی شق (7) کے تحت ضروری ہے۔وزیر خارجہ کی جانب سے قرارداد پیش کیے جانے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اراکین کو طریقہ کار سے متعلق بتایا اور ایوان میں اراکین کو آنے کیلئے گھنٹیاں بجائی گئی۔بعدازاں ایوان کے دروازے بند کردئیے گئے اور اراکین کو اعتماد کا ووٹ دینے کے لیے لابی میں جانے کی ہدایت کی گئی۔ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے بعد گنتی کی گئی اور اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ اگست 2018 میں عمران خان نے ایوان سے 176 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ خصوصی اجلاس میں ایوان کے 178 ارکان کے ووٹ حاصل کرلیے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎