ہمارا بیانیہ اب قوم کی دلوں کی آواز بن چکا،وقت آگیا اس کی راہ میں آنیوالی ہر رکاوٹ کو عوام اب اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے اڑا دیں،یوسف رضا گیلانی کی فتح پر نواز شریف کھل کر بول پڑے

  جمعرات‬‮ 4 مارچ‬‮ 2021  |  20:07

لندن(آن لائن)مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی فتح اس بات کی عکاس ہے عمران خان اور موجودہ حکومت ایوان میں اکثریت کھو چکے ہیں، ہمارا بیانیہ اب قوم کی دلوں کی آواز بن چکا،وقت آگیا اس کی راہ میں آنیوالی ہر رکاوٹ کو عوام اب اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے اڑادیں،ریاست نظام کو بار بار اپنے پاؤں تلے روندنے والی قوتوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا،غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غریب دشمن حکومت کیخلاف آواز اٹھانا عبادت سمجھتا ہوں،یہ وقت دلیری کیساتھ آگے بڑھنا ہوگا،


ہمیں نہ انگریزوں اور نہ ہی آئین کے غداروں کی غلامی قبول ہے،بائیس کروڑ عوام کے حقوق کے لئے کبھی ایک لمحے کیلئے پیچھے نہیں ہٹا اور نہ ہی ہٹوں گا،اگر ہم نے ان آئین شکن کرداروں کا راستہ نہ روکا تو آنیوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی26مارچ کے لانگ مارچ کو ہمیں کامیاب کرانا ہے، ہمیں پاکستان کو لگی ان بیماریوں سے نجات دلانا ہے۔ اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاکہ مشاہد اللہ کی وفات پر بہت رنجیدہ ہوں جنہوں نے ساری عمر جمہوریت کا علم اٹھائے رکھا مجھے یاد ہے کہ جب میں اڈیالہ جیل میں ہوتا تھا تو مجھے ہر مرتبہ جیل میں ملتے تھے اور جیل میں میرا حوصلہ بڑھاتے تھے اور جیل میں سنائے گئے چند شعر آج بھی مجھے یاد ہیں۔نوازشریف نے کہاکہ مشاہد اللہ خان نے جس طرح سے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیا اور آج ہم سے جدا ہو گئے ان کی وفاداری پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ان کے فرزندہ ڈاکٹر رفنان اللہ خان سینیٹ کے ممبر بن چکے ہیں جو کہ ہم سب کے لئے باعث فخر ہے اور ایسے انمول ساتھی اورنایاب لوگ نصیب سے ملتے ہیں۔اللہ تعالیٰ مشاہد اللہ کو جنت الفردوس نصیب فرمائے۔ نوازشریف نے کہاکہ اس مرحلے پر حمزہ شہبازشریف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے جرات مندی کے ساتھ جھوٹے مقدمات میں جیل کاٹی ہے وہ یقینی طورپر لائق تحسین ہے اور اس بہادری پر دل کی گہرائیوں سے شاباش دیتا ہوں۔انہوں نے کہاکہجو ظلم موجودہ حکومت نے شہبازشریف خواجہ آصف اور ہمارے قائدین اورکارکنوں پرڈھایا ہے اورجس طرح بڑی ہمت اور استقلال کے ساتھ وہ اس ظلم کا مقابلہ کرتے رہے ہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی شہبازشریف اور خواجہ آصف کو جلد سرخرو فرمائے اورجبر کے اس دور میں حکومت کے جبر و ظلم سہتے ہوئے، کاروباری نقصاناٹھاتے ہوئے اپنے نظریے کے ساتھ جڑے رہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔نوازشریف نے کہاکہ جو اپنے نظریے کے ساتھ قائم و دائم رہے ہیں ان کو سلام پیش کرتا ہوں، کل سینیٹ کے الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی فتح پر میں انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں اور گیلانی کی فتح اس بات کی عکاس ہے کہ عمران خان اور موجودہ حکومتایوان میں اکثریت کھو چکے ہیں اب جو مرضی کہیں ووٹ آف کنفیڈنس کہنا ہے وہ میدان میں بھی ہار چکے ہیں کراچی سے لیکر خیبر تک ہار چکے ہیں اور اب ایوان میں بھی ہار چکے ہیں، اوراس کے ساتھ عوام میں ہار چکے ہیں میرا خیال ہے کہ عمران خان کے لئے ایک لمحہ بھی وزیراعظم کے طورپر رہنے کا کوئی جواز نہیں وہ اپنااخلاقی جواز کھو چکے ہیں انہیں فوری مستعفی ہوجانا چاہیے تاکہ اڑھائی سے سال مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے۔ہم اور ہمارے اتحادیوں نے قدم سے قدم ملا کر چلنے کا عزم کررکھا ہے ہم نے عوام کو نجات دلانی ہے، ن لیگ کو توڑنے کی سازشیں مشرف دور میں بھی ہوئی مگر کیا مشرف کا جبراور ظلم ہمیں توڑ سکا؟ نہیں توڑ سکا بلکہپہلے سے زیادہ قوت اور عزم کیس اتھ پاکستان میں عوام کی خدمت کے لئے ہم لوگ 2013ء میں پھر آئے اور پاکستان کو الحمد اللہ ایشیائی ممالک میں معاشی قوت بنایا اور جی ٹوئنٹی میں شامل ہونے کے لئے تیزی کے ساتھ سفر شروع کیا اور بین الاقوامی اداروں نے اس کی تصدیق بھی کی ہے۔پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کے اندھرے ختمکیے، سڑکوں کا جال بچھایا، کراچی میں بدامنی کو ختم کیا، روشنیاں بحال کیں، دہشت گردی کا خاتمہ کیا مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ترقی و خوشحالی کی راہ پر چلتے ہوئے ملک کو اس لئے تباہی کی دلدل میں پھینک دیا گیا کہ کچھ لوگوں کو نوازشریف پسند نہیں ہے اور اسی بغض کی وجہ سے انتخابات چرائے اور ایک سلیکٹیڈ کو کرسیپر بیٹھا دیا اس سلیکیٹڈ نے اڑھائی برس میں جو ملک کا حال کردیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔آج اس اہم اجلاس کوبلانے اور گفتگو کرنے کا مقصد آپ کے حوصلے اورعزم کو داد دینا ہے، جدوجہد کے پہلے مرحلے میں آپ لوگ کامیاب ہو چکے ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا پہلا نعرے ن لیگ نے لگایا اور ہم اس نعرے کے امین و محافظ ہیں،آپ کے پرعزم کی وجہ سے آج یہ نعرے بائیس کروڑکے عوام میں گھرچکا ہے عوام نے ضمنی انتخابات میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، یہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور دھاندلی کی پیداوار سلیکٹ حکومت کی ڈسکہ میں ایک بارپھر دھاندلی کی کارروائی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے جہاں پریذائیڈنگ افسرانکو اغوا کرلیا گیا تھیلوں کو جعلی ووٹوں سے بھر دیا گیا۔ووٹوں کی شرح 35فیصد سے 85فیصد کردی گئی 2018 کی واردات کو ڈسکہ میں دہرایا گیا جسے پارٹی کے رہنماؤں نے شدید دھند کے باوجود رانا ثناء اللہ و دیگر نے انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اب پوری قوم جان چکی ہے کہ 2018 کے انتخابات کوبھی اسی طرح چوری کیا گیا، پاکستانکا بچہ بچہ جان چکا ہے کہ کیسے چند آئین شکنوں نے فیصلہ کیا کہ ایک ایسے مہرے کو جتوانا ہے جس سے وہ اپنی مرضی کی چالیں چل سکیں لہذا ووٹ چوری کرکے ایک نااہل ناتجربہ کار اور نالائق آدمی کو قوم کے سروں پر مسلط کردیا گیا ان آئین شکنوں نے جو کیا ہے آج بائیس کروڑ عوام ان سے پوچھتی ہے کہ کیونکہ ترقی کرتا اورآگے بڑھتا ہوا پاکستان برباد کیا گیا، کیوں بچوں کے منہ نوالہ اور روز گار چھینا گیا، کیوں بجلی کے ریٹس دوگنا سے بھی مہنگے کردیئے گئے عوام سوال پوچھتی ہے کہ کیوں پاکستان کو غربت، مہنگائی، بے روزگاری اوربدامنی کو پھینک دیا گیا؟ چینی، دالیں، سبزیوں کی قیمتیں کیوں دوگنا ہوگئی ہیں؟ وہ والدین جن کے بچے دوائی نہملنے سے بلک بلک کر مررہے ہیں ان کی دوائیاں کیوں مہنگی کی گئی؟ ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے لوگ سوال پوچھ رہے ہیں۔ایک ڈھیلے کی کرپشن ثابت نہ ہونے کے باوجود بیٹے سے فرضی تنخواہ سے وزارت سے فارغ کردیا گیا اور دوسری طرف بلین ٹری، ملم جبہ،فارن فنڈنگ میں رسیدیں مانگیگئی، علیمہ خان کی رسیدیں مانگی گئیں تو خاموشی، بنی گالہ کی رسیدوں پر خاموشی، جنرل عاصم باجوہ سے رسیدیں مانگی گئیں تو خاموشی اختیار کرگئے۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت کی مشعل اب جو عوام تھام لی ہے اس کی پھیلتی روشنی میں ہر ذی شعور پوچھتا نظر آتا تھا آپ کا کام سرحدوں کی حفاظتی کرنا تھا یا پولنگ اسٹیشن پرقبضہجمانا تھا؟ آپ کا پاکستان کا دفاع اور آئین کا احترام کرنا تھا یا جمہوری حکومتوں کے تختے الٹانا تھا، آپ کا کام آئین و حلف کی پاسداری کرنا تھا یا ریاست کے اندر ریاست بنانا تھا؟ اگرپاکستان میں حقیقی جمہوریت اور آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں تو ان قوتوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا جو جمہوریت اور ریاستی نظام کو بار بار پاؤں تلےروندھتے ہیں۔اپنے دل سے پوچھ کر بتائیں کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟ کیا ووٹ کی عزت نہیں ہونی چاہیں؟ کیا آئین توڑنے والوں کا راستہ نہیں روکنا چاہیے؟ کیا عوامی نمائندوں کو رسوا کرنیوالوں کا راستہ نہیں روکنا چاہیے؟ میں ان سب آئین شکنوں اور ان کو تحفظ دینے والوں کو بتا دینا چاہتا ہوں ہمارا بیانیہ اب قوم کا بیانیہ اوردل کی آواز بنچکا ہے اب وقت آچکا ہے کہ اس راہ میں آنیوالی ہر رکاوٹ کو عوام اب اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے اڑا کر رکھ دیں گے اب ووٹ کو عزت دلوانے کا وقت آچکا ہے اس مرحلے میں عوام اور ہم سرخرو ہوں گے۔عوام کی حالت زار عوامی نمائندوں سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا، کیا عوام کے چہروں پر پھیلی مایوسی دیکھ رہے ہیں، اس نااہلحکومت نے مہنگائی کا بازار گرم کررکھاہے، پٹرول و بجلی کے نرخوں میں ہر چند دنوں بعد اضافے نے عوام کو کچل کر رکھ دیا ہے، دہائی دیتے سرکاری ملازمین تنخواہوں کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ ان پر زائد المعیاد شیل استعمال کرتے ہیں۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ عوام اپنے بچوں کو کہاں سے کھلائیں گے، ایک پیج پر ہونیوالے بتائیں کیا انکے ایک پیج پر ہونے سے غریب کا پیٹ بھرا ہے۔غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غریب دشمن اور کرپٹ حکومت کیخلاف آواز اٹھانا عبادت سمجھتا ہوں اور اس کا بیڑا میں اٹھا چکا ہوں اور قوم کے ساتھ ملکر اس عظیم مقصد کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا بس آپ نے میرے کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہے، یہ وقت دلیری کیساتھ آگے بڑھنا ہوگا، ہمیں نہ انگریزوں اور نہ ہی آئین کے غداروں کی غلامی قبول ہے۔بائیس کروڑعوام کے حقوق کے لئے کبھی ایک لمحے کیلئے پیچھے نہیں ہٹا اور نہ ہی ہٹوں گا۔میں نے اپنے حصے کا دیا جلا دیا ہے اور اب عوام اپنا حصہ ڈالنا ہے۔اگر ہم نے ان آئین شکن کرداروں کا راستہ نہ روکا تو آنیوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ہمیں ملکر جمہوریت کی بحالی کی تحریک کومنطقی انجام تک پہنچانا ہم سب اور عوام کا کام ہے۔26مارچ کے لانگ مارچ کو ہمیں کامیاب کرانا ہے اور عوام کی کوششیں ضرور رنگ لائیں گی، پاکستان کو لگی بیماریوں سے ہم جان چھڑانے سے کامیاب ہو جائیں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

راﺅنڈ اباﺅٹ

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ....مزید پڑھئے‎

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ....مزید پڑھئے‎