اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن ) موسم سرما میں کےٹو سر کرنے کی مہم جوئی کے دوران لاپتہ ہونے والے علی سدپارہ اور دو ساتھی کوہ پیماؤں کا نو روز بعد بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ علی سدپارہ اور ساتھی کوہ پیماؤں کی تلاش میں نا صرف جدید ٹیکنالوجی کی مدد لی جا رہی ہے بلکہ پاک فوج نے ہیلی کاپٹرز کے علاوہ ایف 16 طیاروں سے بھی کے ٹو کے علاقے کی سرچنگ میں مدد فراہم کی ہے۔
علی سدپارہ نے اپنے 2 خواب پورا کرنے کا بتایاتھا ۔ سردیوں میں نانگا پربت سر کرنے پر علی سدپارہ کو مختصر عرصہ کیلئے پذیرائی ملی اور وہ ساتھی کوہ پیماؤں کے ساتھ اسپین اور پولینڈ کی سیر کی۔ جب محمد علی سدپارہ سے ان کے خوابوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ دو ہی خواب ہیں۔ اپنی بیوی کے لیے سلائی مشین خریدنا اور موسم سرما میں کے ٹو سر کرنا ہے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ابرار الحق نے کے ٹو پر لاپتا ہونے والے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کا خواب پورا کرنے کا اعلان کر دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر انہوںنے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ یہ خبر سنی ہے کہ علی سدپارہ اپنے گائوں میں ایک سکول کی تعمیر کرنا کا ارادہ رکھتے تھے ۔ پی ٹی رہنما نے کہا ہے کہ اب ان کا یہ خواب میں پورا کروں گا ،اللہ پاک نے چاہا تو قومی ہیرو کی یاد میں ایک سکول تعمیر کیا جائے گا ۔ دوسری جانب موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی کے دوران لاپتہ ہونے والے علی سدپارہ اور دو ساتھی کوہ پیماؤں کا نو روز بعد بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ علی سدپارہ اور ساتھی کوہ پیماؤں کی تلاش میں نا صرف جدید ٹیکنالوجی کی مدد لی جا رہی ہے بلکہ پاک فوج نے ہیلی کاپٹرز کے علاوہ ایف 16 طیاروں سے بھی کے ٹو کے علاقے کی سرچنگ میں مدد فراہم کی ہے۔واضح رہے کہ کے ٹو پر پاکستان کے لاپتا کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کی ٹیم کی تلاش کیلئے جاری سرچ آپریشن دوسرے دن بھی جاری رہا مگر تاحال کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کا کہناہے کہ 8ہزار میٹر کی بلندی پر دو دن تک زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہیں۔علی سدپارہ کے کوہ پیما بیٹے سمجھتے ہیں کہ ان کے والد کی تلاش کیلئے آپریشن جاری رہنا چاہیے۔ساجد سد پارہ کا کہنا تھا کہ میرے والد کے مجھ سے آخری الفاظ یہ تھے کہ “میرے ساتھ اوپر آجاؤں”۔ میرے پاس جو بچی کچی آکسیجن تھی
وہ میں کچھ خرابی کے باعث استعمال نہ کرسکا تو مجھے واپس آنا پڑا۔ مایہ ناز پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی ’تم چلائے آئو پہاڑوں کی قسم‘ کے گانے کی ایک پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، ویڈیو میں انہیں اپنے کیمپ میں دوستوں کے ساتھ گانا گاتے ، تالیاں بجاتے اور ناچتے دیکھا جاسکتا ہے۔علی سدپارہ ، جنہوں نے آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جے پی موہر کے
ساتھ سردیوں میں کے ٹو کو سر کرنے کے مشن کا آغاز کیا تھا ، جمعہ کو لاپتہ ہوگئے تھے۔ سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ نے میڈیا کو بتایا کہ کوہ پیما افراد کے زندہ بچ جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔ہفتے کے روز سے لاپتہ کوہ پیماؤں کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن خراب موسم کی خرابی کی وجہ سے ناکام رہی ہیں تاہم ساجد کو یقین ہے کہ اس کے والد نے چوٹی کو سر کرلیا تھا۔
ساجد نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’میرے والد کو تمام پہاڑوں کو سر کرنے کا تجربہ ہے ،میں نے انہیں آخری بار کے 2 پہاڑ کے قریب دیکھا تھا، مجھے یقین ہے کہ انہوں نے کے ٹو کو سر کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’واپسی پر ہوائیں بہت تیز تھی جس کی وجہ سے کوئی مسئلہ بنا‘۔وہ چاہتے تھے کہ میں ان کے پاس اوپر آجا ئوں ،بعد ازاں ساجد نے تیسرے دن بھی ریسکیو مشن کے لئے روانہ ہونے سے پہلے اپنی تصویر شیئر کی۔گلگت بلتستان کے ہوم سکریٹری محمد علی رندھاوا نے بھی سرچ آپریشن کے
دوران پاک آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹروں پر کے ٹو کی لی گئی تصاویر شیئر کیں۔ادھر الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدر نے بتایا کہ ’دوسرے دن بھی ہیلی کاپٹروں کی تلاش میں لاپتہ کوہ پیماؤں کا کوئی نشان نہیں ملا‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ہیلی کاپٹروں کے عملے نے 7،000 میٹر (23،000 فٹ) اونچائی تک کے راستے پر کوہ پیمائوں کو تلاش کیا۔ اس تلاش کی مہم کے منیجر چھانگ داوا شیرپا نے بتایا کہ وہ کوہ پیمائوں کا سراغ لگانے کی کوشش کرنے والی ایک سرچ ٹیم کا حصہ ہے۔