جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

سینٹ انتخابات، حکومت کو آرڈیننس کے اجرا میں 13 ماہ لگے،اس دوران کیا کچھ ہوتارہا؟تفصیلات آگئیں

datetime 10  فروری‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینٹ کے انتخابات کھلے ووٹ کے ذریعہ کرانے کا فیصلہ 13 ماہ کی انتہائی سرگرمیوں کے نتیجے میں ایک متنازع اور مشروط آرڈیننس کے اجرا کی صورت ظاہر ہوا ۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ کی شائع خبر کے مطابق گزشتہ سال 28 جنوری کو

وفاقی کابینہ نے انتخابی اصلاحات کے لئے سفارشات مرتب کر نے کی غرض سے کمیٹی قائم کی تاکہ آئین اور انتخابی ایکٹ 2017 میں ترامیم کی جائیں ، جس کے تحت سینٹ انتخابات کھلے ووٹ کے ذریعہ کرائے جائیں ، سمندر پار پاکستانیوں کو بھی ووٹ کا حق دیا جائے اور دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کو بھی انتخابات لڑنے کی مشروط اجازت ہو نی چاہئے۔کمیٹی کی سفارشات پر کابینہ نے اصلاحات کے پیکیج کی منظوری دی اور دو بلوں میں ان کا احاطہ کیا گیا ۔حکومت نے گزشتہ سال 29 اکتوبر کو 26 واں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا ۔جو غور کے لئے قانون اور انصاف پر ایوان کی قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا جس نے آئین کے آرٹیکل 59 میں ترمیم کے ذریعہ سینٹ انتخابات بھی صدر اور وزیر اعظم کے انتخاب کی طرح جس کے لئے آئین کے آرٹیکل 226 کو تبدیل کر کے کھلے ووٹ کے ذریعہ کرانے کا فیصلہ کیا ۔آرٹیکل 63 میں بھی تبدیلی کی گئی جس کے تحت دوہری شہریت کے حامل امیدوار کو

کامیابی پر اپنی کسی دوسرے ملک کی شہریت ترک کرنے کا حلف نامہ داخل کرنا ہو گا ۔ورنہ وہ نا اہل قرار پائے گا ۔اب جبکہ دونوں ترمیمی بل قومی اسمبلی میں کسی توجہ کے محتاج رہے حکومت نے گزشتہ 23 دسمبر کو سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کردیا تاکہ سینٹ انتخابات

کھلے ووٹ کے ذریعہ کرائے جا سکیں ۔ریفرنس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل226 صدر ، اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر اور صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز کے انتخاب پر لاگو ہو تا ہے اور الیکشن ایکٹ کے تحت سینٹ ارکان کے انتخاب پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ۔سپریم کورٹ میں مذکورہ ریفرنس دائر کر نے سے قبل ہی حکومت نے سینٹ انتخابات کھلے ووٹ کے ذریعہ کرانے کا فیصلہ کرلیا تھا ۔گزشتہ 31 جنوری کو مجلس قائمہ نے نصف گھنٹے کے اندر ہی سفارشات کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…