بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

اوپن لیٹر پر گاڑیوں کی ٹرانسفر کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ، بائیو میٹرک طریقہ کار نافذ کرنے کا اعلان

datetime 5  فروری‬‮  2021 |

لاہور، پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب حکومت نے چوری، ڈکیتی اور دیگر کارروائیوں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے گاڑیوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا ہے، اب صوبہ پنجاب میں اوپن لیٹر پر گاڑیوں کی ٹرانسفر نہیں کی جائے گی۔ اوپن لیٹر ہونے کی وجہ سے ای چالان میں بھی مشکلات کا

سامنا ہے، اسی وجہ سے صوبہ بھر میں گاڑی یا موٹر سائیکل فروخت کرنے کے باوجود چالان پرانے مالک کے گھر بھجوایا جا رہا تھا۔پنجاب کے محکمہ ایکسائز اوپن لیٹر پر اکتیس مارچ تک ٹرانسفر کرے گا جبکہ یکم اپریل سے یہ سسٹم بند کر دیا جائے گا، اپریل سے گاڑی ٹرانسفر کروانے کے لئے بائیو میٹرک سسٹم نافذ ہو جائے گا۔ بائیومیٹرک نادرا کے ای سہولت مراکز پر بھی ہو سکے گی۔دوسری جانب پشاور میں چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت کی سربراہی میں ٹریفک نظام کے حوالے سے جائزہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں ایس پی ٹریفک ہیڈ کوارٹرز افتخار علی, ایس پی کینٹ ٹریفک امان اللہ‘ ایس پی سٹی ٹریفک عبداالسلام خالد‘ ڈی ایس پی ایجوکیشن ون شازیہ شاہد‘ ڈی ایس پی ایجوکیشن ٹو ناصر خان, ڈائریکٹر آئی ٹی اشفاق احمد سمیت ٹریفک آفیسرز اور ٹریفک وارڈنز نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت کو ٹریفک قوانین سے متعلق اٹھائے جانیوالے اقدامات اور گزشتہ ماہ کی جانیوالی کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 1لاکھ 7 ہزار 358 افراد کو چالان کیا گیا ہے جس میں سیٹ بلیٹ کے استعمال نہ کرنے پر 2513‘ تجاوزات قائم کرنے پر 1884‘ دوران سفر موبائل فون استعمال پر

2436‘ ون ویلنگ پر130‘ غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل چلانے پر 2370‘جبکہ نو پارکنگ زون کی خلاف ورزی پر 180 موٹر سائیکلوں کو ٹرمینل میں بند کیا گیا ہے۔ چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے گزشتہ ماہ کی جانیوالی کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ سٹی ٹریفک پولیس پشاور اسی طرح شہریوں کو بلا تعطل

سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائیگی تاکہ پشاور کو پورے صوبے کیلئے ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک افسران اور وارڈنز روزانہ کی بنیاد پر تجاوزات مافیا کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری

رکھیں تاکہ شہر بھر سے تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور شہریوں کو کسی قسم کے مشکلات درپیش نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاجر برادری شہر کی خوبصورتی اور تجاوزات کے خاتمے میں سٹی ٹریفک پولیس پشاور کے عملے کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں اور تجاوزات مافیا رضا کارانہ طور پر تجاوزات کا خاتمہ کریں

تاکہ آپریشن کے دوران ان کے قیمتی سامان کا ضیاع نہ ہو۔انہوں نے سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی ایجوکیشن یونٹ کو ہدایت کی کہ وہ مختلف مقامات پر شہریوں کو ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی دینے کا سلسلہ جاری رکھیں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے تاکہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…