اجلاس کے دوران وزیر اعظم کے غصے پر ندیم افضل چن مسکراتے ہوئے درود شریف کا ورد کرتے رہے،معاون خصوصی کے مستعفی ہونے کے بعد کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

  جمعہ‬‮ 15 جنوری‬‮ 2021  |  19:10

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ندیم افضل چن کا استعفیٰ وزیراعظم کے پاس پہنچ گیا لیکن انہوں نے اس پر ابھی تک اپنا کوئی فیصلہ نہیں دیاہے ۔ وفاقی وزراء کی جانب سےعمران خان کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ندیم افضل چن کےاستعفیٰ قبول نہ کریں ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ 12جنوری کو وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس کے دورانعمران خان جب وزراء کو حکومتی کارکردگی کا بہترین دفاع نہ کرنےپر غصے ہو رہے تھے اس وقت وہاں موجود ندیم افضل چن زیر لب مسکراتے ہوئے دورد شریف کا ورد کر


رہے تھے ۔ اجلاس کے بعد ندیم افضل چن سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے گھر حاجی نواز کھوکھرکے انتقال پر تعزیت کیلئے گئے تھے ۔ دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما ندیم افضل چن کے عہدے سے مستعفی ہونے پر وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ندیم افضل چن نے جذبات میں آکر استعفیٰ دیاہے۔ ندیم افضل چن بہترین سیاستدان ہیں لیکن انہوں نے جذبات میں استعفیٰ دیا،امید ہے کہ وہ استعفیٰ واپس لے لیں گے۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں انہوں نے مزید کہا کہ ندیم افضل چن سیدھے سادھے انسان ہیں۔وزیراعظم کے ساتھ کام کرنے والوں کو کوئی شکوہ نہیں۔ہماری حکومت کے بہت سارے مسائل ہیں۔ وزیراعظم نے کابینہ کو اجتماعی طور پر کہا تھا کہ جب متفقہ فیصلہ ہو جاتا ہے تو پھر تنقید نہ کیا کریں۔دریں اثنا ندیم افضل چن کے مستعفی ہونے کی وجوہات بھی سامنے آئی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی مسلسل پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے میں ملوث رہے۔ندیم افضل چن ہزارہ برادری کے پاس وزیراعظم کے تاخیر سے جانے کے بھی ناقد تھے۔8 جنوری کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں ندیم افضل چن نے کہا تھا کہ اے بے یار و مدد گار معصوم مزدوروں کی لاشوں پر شرمندہ ہوں۔واضح رہے کہ وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے ملک گیر بریک ڈائون کو انسانی غلطی قرار دیتے ہوئے ابتدائی رپورٹ کابینہ میں پیش کی تھی اس دوران وزیر اعظم اور وزراء نے عمر ایوب سے سخت سوالات کئے تاہم وفاقی وزیر نے کابینہ کو تفصیلی بریفنگ سے مطمئن کیا ۔کابینہ کے اجلاس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اسامہ ستی قتل کیس بارے بھی بھی بحث کی گئی،کابینہ ارکان نے رائے دی کہ اسامہ ستی کے لواحقین جس طرح کی چاہیں تحقیقات کرائیں،وزیر اعظم عمران خان نے اسامہ ستی کی تحقیقات سے متعلق حکام کو تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ لواحقین ہائیکورٹ سے انکوائری کرانا چاہتے ہیں تو تعاون کریں، اسامہ ستی واقع کی تحقیقات کے بعد سخت سزا ہوگی۔یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے، کیس میں انصاف ہوگا، اسامہ ستی واقعے کو مثالی بنائیں گے، وزیراعظم نے شفاف انکوائری اور تحقیقات کیلئے وزیر داخلہ شیخ رشید کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہتمام پہلوئوں پر نظر رکھیں کہیں بھی کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے،کابینہ اجلاس میں براڈشیٹ معاملے پر وزیر اعظم نے کہا کہ معاملے پر حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جائے ،قوم کو بتائیں کہ براڈشیٹ کو انہوں نے کیسے خریدنے کی کوشش کی،وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کو اس حوالے سے ٹاسک سونپ دیا گیا ہے ۔کابینہ کے اجلاس میں پی ڈی ایم کے الیکشن کمیشن کے باہر آئندہ ہونے والے احتجاج پر بھی بحث کی گئی اور اس حوالے سے مزید فیصلے کیلئے آئندہ آنے والے مشاورتی اجلاسوں میں کیا جائیگا۔


زیرو پوائنٹ

نپولین فالٹ

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎