منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کے ہر قدم پر نظر ہے ، بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ افغانستان میں اور بھارتی فوج سرحدوں پر کیا کر رہی ہے، بھارت کے خلاف ڈوزیئر میں حقائق مختلف ممالک تک پہنچا دیے گئے ،ترجمان پاک فوج کا بھارت کو دوٹوک پیغام

datetime 11  جنوری‬‮  2021 |

راولپنڈی (این این آئی) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال ترقی یافتہ ممالک کے دارالحکومتوں سے بھی بہتر ہے۔ میڈیا سے بریفنگ کے دور ان پاکستان کے خلاف بھارتی اقدامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے اقلیتوں کیحوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا کیا اور کشمیر کے محاذ پر اپنی جارحیت کو چھپایا،

پاکستانی میڈیا نے بھارتی پروپیگنڈ ے کو بے نقاب کیا جس پر میڈیا مبارکباد کا مستحق ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہمیں ملک کو کامیاب بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے، کورونا کے خلاف پاکستان کی کوششوں کا دنیا اعتراف کررہی ہے لیکن دشمن قوتیں ہمیں ناکام کرنے میں مصروف ہیں۔انہوںنے کہاکہ بھارت کے خلاف ڈوزیئر میں جو حقائق ہیں وہ مختلف ممالک تک پہنچا دیے ہیں، بھارتی خفیہ ایجنسی را افغانستان میں داعش کی معاونت کر رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ2007-08 میں صرف 37 فیصد قبائلی علاقے پر ریاستی عملداری رہ گئی تھی۔میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوںنے کہاکہ اگر دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی کامیابی کو پیمانے پر پرکھا جائے تو 08-2007 میں قبائلی اضلاع میں صرف 37 فیصد علاقے پر ریاستی عملداری رہ گئی تھی، الحمد اللہ تمام ڈسٹرکٹس خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دہشتگردی کے بڑے واقعات میں 2019 کے مقابلے میں 2020 میں 45 فیصد کمی آئی، دہشتگردی کے واقعات 2013 میں اوسطاً 90 فی سال تھے جو آج گھٹ کر 13 فی سال ہو گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اگر دہشتگردی کے واقعات میں ہونے والی اموات کا جائزہ لیں تو 2013 میں دہشتگردی کے واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 414 تھی اور 2020 میں 98 تھی۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہاہے کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال ترقی یافتہ ممالک کے دارالحکومتوں سے بھی بہتر ہے۔ پیرکو ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں کو بتایا کہ خودکش حملوں میں 97 فیصد کمی واقع ہوئی، 2014 میں کراچی کرائم انڈکس میں چھٹے نمبر پر تھا اور 2020 میں سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کے بعد 103 نمبر پر آگیا ہے، اب یہاں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے بڑے بڑے دارالحکومتوں سے بھی زیادہ بہتر امن و امان کی صورتحال ہے۔انہوں نے بتایا کہ کراچی میں دہشتگردی میں 95 فیصد، ٹارگٹ کلنگ میں 98 فیصد، بھتہ خوری میں 99 فیصد اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں 98 فیصد کمی واقع ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…