پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

اپوزیشن جماعتوں نےمسلسل فوج کو تضحیک کا نشانہ بنایا، مولانا فضل الرحمان ، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز سے پاک فوج سے معافی مانگنے کا مطالبہ

datetime 11  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )پی ڈی ایم اور جے یو آئی(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ، ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز اورپی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سےپاکستانی قوم اور بالخصوص افواج پاکستان سے معافی مانگنے کا مطالبہ ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر اینکر پرسن سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سینئر اینکر پرسن کامران خان نے کہا ہے کہ فضل الرحمن ،

مریم بی بی، بلاول بھٹو زردار فوری قوم بالخصوص افواج پاکستان سے دست بستہ معافی مانگیں ،مسلسل فوج کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا مگر ان کامیابیوں فتوحات اور شہادتوں کا ذکر نہیں کیا گیا جن کی بدولت پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ادوار میں آج پاکستان انتہائی محفوظ معاشی ترقی راستے گامزن ہے ماشاللہ۔ دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہاہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اگر راولپنڈی آنا چاہتے ہیں توچائے پانی پلائیں گے ۔ پیر کو میڈیا بریفنگ کے دور ان ایک صحافی نے مولانا فضل الرحمن کے راولپنڈی آنے کے بیان کے حوالے سے سوال کیا تو اس کے جوا ب میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہاکہ مجھے راولپنڈی آنے میں اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے ، اگر وہ آنا چاہتے ہیں تو انشا ء اللہ چائے پانی پلائیں گے اور دیکھ بھال کریں گے اس سے زیادہ میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔دریں اثنا پاک فوج کے ترجمان میجر بابر افتخار نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان میں منظم دہشت گردوں کا کوئی اسٹرکچر موجود نہیں ،2020 میں ہی سیکیورٹی چیلنجز کے علاوہ ٹڈی دل اور کووڈ 19 جیسی وبا نے پاکستان کی معیشت اور خوراک کے تحفظ کو بھی خطرے میں ڈالے رکھا،بھارت کے مذموم عزائم ہوں یا پاکستان کیخلاف ہائبرڈ وارفیئر کی ایپلی کیشن، خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی ،ہم نے ہمیشہ ثبوتوں اور حقائق کے ذریعے نشاندہی کی اور کامیابی سے مقابلہ کیا ،س کو اب دنیا بھی مان رہی ہے ، سچ ہمیشہ غالب آتا ہے ،مغربی سرحد امن و امان کی صورتحال میں بہت بہتری لائی گئی ہے، 2611 کلومیٹر پر 83 فیصد کام مکمل کرلیا ہے جو سال کے وسط تک مکمل ہوجائے گا۔پیر کو یہاں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پریس کانفرنس کا مقصد ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ تقریباً ایک دہائی کے سیکیورٹی چیلنجز کا جائزہ اور دیگر اہم امور پر آپ کو آگاہی دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سال ہر لحاظ سے پاکستان کے لیے بہت چیلنجز وقت تھا، صرف 2020 میں ہی سیکیورٹی چیلنجز کے علاوہ ٹڈی دل اور کووڈ 19 جیسی وبا نے پاکستان کی معیشت اور خوراک کے تحفظ کو بھی خطرے میں ڈالے رکھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…