جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

کورونا کے سبب تعلیمی اداروں کی بندش اور گھروں سے آن لائن پڑھنے والے طلبا کی پریشانیوں میں اضافہ

datetime 4  جنوری‬‮  2021 |

مکوآنہ  (این این آئی )کورونا وائرس کے سبب تعلیمی اداروں کی بندش اور گھروں سے آن لائن پڑھنے والے طلبا اب پریشان ہو گئے اور جلد تعلیمی سلسلے کی بحالی کے خواہاں ہیں۔کورونا وائرس سے بچائو کے لیے جہاں ایک طرف تعلیمی اداروں کی بندش طلبا کے تعلیمی حرج کا سبب بن رہی ہے وہیں دوسری طرف اب طلبا بھی گھروں میں رہ کر بور ہو چکے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کے طلبا

ہوں یا پرائمری و سیکنڈری اسکولوں کے بچے وہ اب تعلیمی سلسلے کی جلد بحالی کے خواہاں ہیں۔تعلیمی اداروں کے طلبا اب اپنے اسکول کی روزمرہ کی مصروفیات کو یاد کرنے لگے ہیں۔ صبح اٹھنا، کھیلنا اور آن لائن کلاسز میں مصروف بچوں کو اب کلاس رومز کی یاد شدت سے ستا رہی ہے۔بچے کہتے ہیں کہ اب اسکول کھلیں گے تو وہ ضرور جائیں گے۔ جہاں وہ نہ صرف پڑھیں گے بلکہ اپنے دوستوں سے بھی ملاقات کریں گے۔یونیورسٹیز اور کالجز میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کہتے ہیں کہ سب کچھ جیسے رک سا گیا ہے۔ آن لائن پڑھائی، کمرہ کلاس میں پڑھنے کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ جو کچھ آپ کلاس میں بیٹھ کر سیکھ رہے ہوتے ہیں وہ آن لائن کلاسوں  میں نہیں سیکھ سکتے۔ حکومت کو اب جلد تعلیمی ادارے کھول دینے چاہئیں۔دوسری جانب والدین کہتے ہیں کہ کورونا وائرس سے حفاظت ضروری ہے اور تعلیمی اداروں کی بندش سے بچوں کا ناقابل تلافی نقصان بھی ہو رہا ہے۔ بچے گھروں میں شرارتیں کرتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ پہلے ہم اس بیماری سے بچ جائیں پھر بچے اسکول بھی چلے جائیں گے۔تعلیمی اداروں کی بندش سے نہ صرف بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے بلکہ یہ نفسیاتی دبائو کا بھی شکار ہو رہے ہیں تاہم تعلیمی ادارے کھولنے جانے کا فیصلہ صوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں ہی ہو گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…