تیاری نہیں تھی تو وزارت عظمیٰ کیوں لی؟ عمران خان کودوبارہ پرائمری میں ڈالنے کا مطالبہ کردیا گیا

  اتوار‬‮ 27 دسمبر‬‮ 2020  |  16:53

لکی مروت (این این آئی)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیاری نہیں تھی تو وزارت عظمیٰ کیوں لی، نااہل اور ناکام طالب علم نقل کرکے بھی فیل ہورہا ہے، وزیراعظم کودوبارہ پرائمری میں ڈالاجائے،حکومت کےپاؤں عوامی گردن پر ہیں، ہمیں موقع ملا تو یہاں سے سودی نظام کا خاتمہ کریں گے۔ اتوار کو سراج الحق نے لکی مروت میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں تیاری نہیں تھی، تیاری نہیں تو امتحان میں کیوں بیٹھ گئے تھے، اگر تیاری نہیں تھی تو


وزارت عظمیٰ کیوں لی، یہ ناکارہ طالبعلم نقل کے باجود بھی فیل ہو رہا ہے، عمران خان اور ان کی کابینہ نقل کے باجود فیل ہے۔سراج الحق نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے متعلق کہا ہے کہ پی ڈی ایم نے عوام کو دھوکے میں رکھا، پی ڈی ایم میں شامل نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان کا عوام کو دھوکے میں رکھنا ہے، ایک طرف بلاول، دوسری طرف مریم نواز ہوں تو اسلام ایسے لاگو نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور پی ڈی ایم کی سیاست میں فرق ہے، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی انگریز سامراج کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، جماعت اسلامی ذات پات اورموروثیت پریقین نہیں رکھتی، جماعت اسلامی اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے۔سراج الحق نے کہا کہ یہ نظام شوگر مافیا، لینڈ مافیا، آٹاچوروں کے لیے ہے، یہاں ان ظالموں کو کوئی سزا نہیں دے سکتا، ہم اسلامی نظام چاہتے ہیں، جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو۔انہوںنے کہاکہ پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ہے، آج ملک پر خطرات کے بادل ہیں۔کشمیر کو حکومت نے انڈیا کے حوالے کیا، عمران خان نے کہا تھا کشمیر کا سفیر بنوں گا، کشمیر کے سفیر نے کشمیر کو مودی کے حوالے کیا۔سراج الحق نے کہا کہ آئی ایم ایف کا پاکستان پر دباؤ ہے، بجلی، گیس مہنگی کی جا رہی ہے، حکومت کے پاؤں عوامی گردن پر ہیں، ہمیں موقع ملا تو یہاں سے سودی نظام کا خاتمہ کریں گے۔سراج الحق نے کہاکہ ہم آپ کے مسائل قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے، ہماری بات نہ سنی گئی تو آپ ہماری کال پراسلام آباد اور پشاور آئیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎