منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

تیاری نہیں تھی تو وزارت عظمیٰ کیوں لی؟ عمران خان کودوبارہ پرائمری میں ڈالنے کا مطالبہ کردیا گیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2020 |

لکی مروت (این این آئی)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیاری نہیں تھی تو وزارت عظمیٰ کیوں لی، نااہل اور ناکام طالب علم نقل کرکے بھی فیل ہورہا ہے، وزیراعظم کودوبارہ پرائمری میں ڈالاجائے،حکومت کے

پاؤں عوامی گردن پر ہیں، ہمیں موقع ملا تو یہاں سے سودی نظام کا خاتمہ کریں گے۔ اتوار کو سراج الحق نے لکی مروت میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں تیاری نہیں تھی، تیاری نہیں تو امتحان میں کیوں بیٹھ گئے تھے، اگر تیاری نہیں تھی تو وزارت عظمیٰ کیوں لی، یہ ناکارہ طالبعلم نقل کے باجود بھی فیل ہو رہا ہے، عمران خان اور ان کی کابینہ نقل کے باجود فیل ہے۔سراج الحق نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے متعلق کہا ہے کہ پی ڈی ایم نے عوام کو دھوکے میں رکھا، پی ڈی ایم میں شامل نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان کا عوام کو دھوکے میں رکھنا ہے، ایک طرف بلاول، دوسری طرف مریم نواز ہوں تو اسلام ایسے لاگو نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور پی ڈی ایم کی سیاست میں فرق ہے، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی انگریز سامراج کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، جماعت اسلامی ذات پات اورموروثیت پریقین نہیں رکھتی، جماعت اسلامی اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ یہ نظام شوگر مافیا، لینڈ مافیا، آٹاچوروں کے لیے ہے، یہاں ان ظالموں کو کوئی سزا نہیں دے سکتا، ہم اسلامی نظام چاہتے ہیں، جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو۔انہوںنے کہاکہ پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ہے، آج ملک پر خطرات کے بادل ہیں۔

کشمیر کو حکومت نے انڈیا کے حوالے کیا، عمران خان نے کہا تھا کشمیر کا سفیر بنوں گا، کشمیر کے سفیر نے کشمیر کو مودی کے حوالے کیا۔سراج الحق نے کہا کہ آئی ایم ایف کا پاکستان پر دباؤ ہے، بجلی، گیس مہنگی کی جا رہی ہے، حکومت کے پاؤں عوامی گردن پر ہیں، ہمیں موقع ملا تو یہاں سے سودی نظام کا خاتمہ کریں گے۔سراج الحق نے کہاکہ ہم آپ کے مسائل قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے، ہماری بات نہ سنی گئی تو آپ ہماری کال پراسلام آباد اور پشاور آئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…