جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہماری تحریک اس وقت تک چلتی رہے گی جب تک موجودہ حکومت کادھڑن تختہ نہیں ہوگا،مولانا فضل الرحمان کے عزائم

datetime 6  دسمبر‬‮  2020 |

لکی مروت(این این آئی )جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ اب ہم لاہور جائیں گے اور کوئی ہمیں نہیں روک سکتا،ہماری تحریک اس وقت تک چلتی رہے گی جب تک موجودہ حکومت کادھڑن تختہ نہیں ہوگا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 13 دسمبر کو ہونے والے لاہور

کے جلسے میں بھرپور شرکت کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ ملکی معیشت کو موجودہ حکومت نے تباہ کردیا، نااہل حکمرانوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں،سب کو آئین کے دائرے میں رہنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ حکمرانوں نے کشمیر پر بھارت کے قبضے کو قانونی شکل دے دی،ہمارے نااہل حکمرانوں نے بھارت کو خطے میں بالادستی دلا دی ہے۔امیر جمعیت علمائے اسلام نے کہاکہ پاکستان کی پوری تاریخ میں ایسا نا اہل حکمران نہیں آیا، امت مسلمہ اس وقت یتیم ہے، اسرائیل کو بالادستی دلائی جا رہی ہے، کورونا کی آڑ میں بچوں کا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں نے کشمیر پر ہندوستان کے قبضے کو قانونی قرار دیا، موجودہ حکمران نے امت مسلمہ کو یتیم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ملتان میں پولیس تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم نے موجودہ حکومت کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے، کوئی بھی ہمیں روک نہیں سکتا۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں ایسا نا اہل حکمران نہیں آیا، جتنا اس وقت مسلط ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک عالم اسلام پر موجودہ حکمرانوں کی طرح لوگ مسلط ہیں، ہم عالم کفر کیلئے آسان شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمران سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرکے بدمعاشوں کے ساتھ جیل میں بند کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہماری تحریک اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک موجودہ حکومت کا دھڑن تختہ نہیں ہو جاتا۔ ان لوگوں نے ملک کی معیشت مکمل تباہ کردی ہے۔لاہور جلسے سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ اب ہم لاہور جائیں گے اور کوئی ہمیں نہیں روک سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…