حکومت نے اس چیز پر کوئی پابندی نہیں لگائی،انتہائی اہم معاملے پر فردوس عاشق اعوان اور یاسمین راشد آمنے سامنے

  اتوار‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  23:33

لاہور(این این آئی ) وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت نے شام،رات میں شادی کی تقریبات پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ شادی لانز کورونا ایس او پیز اور پہلے سے متعین شدہ قوانین پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھیں گے۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اس حوالے سے ڈاکٹر یاسمین راشدصاحبہ کا دیا ہوا بیان ان کی ذاتی رائے ہے۔واضح رہے کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاہے کہ پنجاب بھرمیں کوروناوائرس کی شدت میں دن بدن مزید اضافہ ہورہا ہے،شادی


کی رسومات کے اوقات صبح11بجے سے 3بجے دوپہرتک محدودکردئیے گئے ہیں،حکومت کی پہلی ترجیح عوام کی معاشی سرگرمیوں کو بحال رکھنا اور صحت کو یقینی بناناہے،اپوزیشن وبا ء تھم جانے کے بعد جلسے جلوس کرلے توبہترہوگا۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے 90شاہراہ قائد اعظم پر پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سپیشل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن اقبال احمد،ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرایڈمن سارہ رشید اور دیگر بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اس موقع پر مزید کہاکہ ستمبرکے ماہ میں پنجاب میں حالات بہت بہترہوگئے تھے،عوام کوبارہابتایاگیاہے کہ کوروناوائرس بالکل ختم نہیں ہوا اس لئے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔آج کے دن تک کوروائرس کا شکار 2, 979افرادلقمہ اجل بن چکے ہیں۔گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کوروناوائرس کے باعث19اموات واقع ہوچکی ہیں۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کی واضح اور شدیدعلامات کے حامل مریضوں کو داخل کیاجارہاہے۔اس وقت 997 کوروناوائر س کے شکارافرادپنجاب کے مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔جن میں سے145مریض وینٹی لیٹرزپرمنتقل کردئیے گئے ہیں اور 475مریض آکسجنیٹڈ بستروں پر زیر علاج ہیں۔اس وقت قرنطینہ اورسیلف آئیسولیشن میں کوروناوئرس کے16, 204کنفرم مریض موجودہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

میرے دو استاد

سنتوش آنند 1939ء میں سکندر آباد میں پیدا ہوئے‘ یہ بلند شہر کا چھوٹا سا قصبہ تھا‘ فضا میں اردو‘ تہذیب اور جذبات تینوں رچے بسے تھے چناں چہ وہاں کا ہر پہلا شخص شاعر اور دوسرا سخن شناس ہوتا تھا‘ سنتوش جی ان ہوائوں میں پل کر جوان ہوئے‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لائبریری سائنس کی ڈگری لی ....مزید پڑھئے‎

سنتوش آنند 1939ء میں سکندر آباد میں پیدا ہوئے‘ یہ بلند شہر کا چھوٹا سا قصبہ تھا‘ فضا میں اردو‘ تہذیب اور جذبات تینوں رچے بسے تھے چناں چہ وہاں کا ہر پہلا شخص شاعر اور دوسرا سخن شناس ہوتا تھا‘ سنتوش جی ان ہوائوں میں پل کر جوان ہوئے‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لائبریری سائنس کی ڈگری لی ....مزید پڑھئے‎