کال ریکارڈ کا ڈیٹا سامنے آ گیا، تحریک انصاف کی رہنما حقائق بیان نہیں کر رہیں، کراچی پولیس مقابلے کے بارے مزید تہلکہ انکشافات

  اتوار‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  18:30

کراچی(این این آئی) شہر قائد کے علاقے ڈیفنس فیز 4 میں مبینہ مقابلے میں 5 ڈکیتوں کی ہلاکت کے واقعے کے سلسلے میں مزید انکشافات سامنے آگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ملزم ڈرائیور عباس کے سرائیکی گینگ لیڈر کے علاوہ دیگر سے بھی رابطوں کا انکشاف ہوا ہے، پولیس کے مطابق عباس، مصطفی اور عابد نامی ملزمان کے کال ریکارڈ کا ڈیٹا سامنے آ گیا۔ملزمان کے نمبرز اورسمز کی تفصیلات بھی منظرعام پرآگئی ہیں، تفتیشی حکام کے مطابق ملزم عباس نے 43 کالز گینگ لیڈر مصطفی اور عابد کو کیں، جب کہ عابد نے عباس کو مختلف اوقات میں 24 کالز


کیں۔مصطفی اور عابد کا ایک دوسرے سے 50 بار رابطہ ہوا، تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ ملزم عباس 2 موبائل سمز استعمال کرتا تھاجبکہ ملزم عابد اور مصطفی 3،3 سمز استعمال کر رہے تھے۔تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران ساؤتھ زون میں گھروں میں ہونے والی ڈکیتیوں میں یہی گینگ ملوث تھا، ملزمان نے بنگلے کو اپنا اڈا بنایا ہوا تھا، جبکہ عباس، عابد اور مصطفی اس گینگ کے اہم ترین کارندے تھے۔پولیس حکام نے بتایا تھا کہ پولیس نے مقابلے میں مارے گئے گینگ کا مزید کرائم ڈیٹا حاصل کر لیا ہے، ہلاک گینگ لیڈر غلام مصطفی پنجاب میں مطلوب ملزم تھا، اس پر پنجاب میں 3 مقدمات کی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں، وہ واقعے سے 3 روز قبل کراچی آیا تھا، اور دو روز قبل انھوں نے ایک جگہ ڈکیتی کی کوشش کی لیکن پولیس کو دیکھ کر فرار ہو گئے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق مبینہ ڈاکو عباس ڈبل کیبن گاڑی 3 روز سے استعمال کر رہا تھا، حساس ادارہ بھی مسلسل ڈبل کیبن کو پولیس کے ہمراہ مانیٹر کر رہا تھا۔ایڈیشنل آئی کراچی غلام نبی میمن نے اس ضمن میں کہاکہ تحریک انصاف کی رہنمالیلیٰ پروین حقائق بیان نہیں کررہیں۔انہوں نے کیا کہ کال ڈیٹا کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے ڈرائیور نےمرکزی ملزم غلام مصطفی کو 17 کالز کیں جبکہ مرکزی ملزم کا فون بھی لیلیٰ پروین کی ویگو گاڑی سے برآمد ہواہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کارروائی کے تمام پہلوؤں پر کام جاری ہے اور ہم مزید تفصیلات جاری کریں گے۔ایک سینئرپولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈکیت گروہ کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا جو 2017 سے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی(ڈی ایچ اے)میں وارداتیں کررہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ گینگ کارندے ڈکیتی کرنے کے لیے گھریلو ملازماؤں سے ان گھروں کی تفصیلات حاصل کرتے جہاں وہ ملازمت کرتیں۔تفتیشی حکام کے مطابق ڈیفنس میں زیادہ تر گھریلو ملازمائیں جنوبی پنجاب سے 2010 میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہجرت کر کے آئیں، یہ سرائیکی گروہ 25 سے زائد اراکین پر مشتمل ہے جس میں سے 8 سے 10 کو گرفتارکر کے سلاخوں کے پیچھے بھیجا جاچکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ڈیفنس میں کم از کم 16 بڑی ڈکیتیاں ہوئی اور پولیس کو اس وقت کچھ 'تکنیکی مدد' ملی جب گینگ کا سرغنہ مصطفی 6 روز قبل ملتان سے کراچی آیا تھا۔سینئراہلکار نے انکشاف کیا کہ ڈرائیور عباس نہ صرف گینگ کے سرغنہ سے رابطے میں تھا بلکہ ایک اور ملزم سے بھی اس کا رابطہ تھا اور انہوں نے فون پر41 مرتبہ بات کی تھی۔انہوں نے کہا کہ لیلیٰ پروین کے شوہر نے اپنی ویگو گاڑی پر اٹارنی ایٹ لا کی پلیٹ لگا رکھی ہے اس لیے ان کے کردار کو بھی دیکھا جارہا ہے کیوں کہ ملزم مبینہ طور پولیس مقابلے میں مارے جانے سے قبل اس میں سفر کررہا تھا۔انہوں نے بتایاکہ علی حسنین ایڈووکیٹ متحدہ قومی موومنٹ جنوبی پنجاب کے تنظیمی ڈھانچے کے صدر رہ چکے ہیں۔پولیس افسرنے بتایاکہ ہم اس بات کی بھی تحقیقات کررہے کہ کیا علی حسنین ڈکیت گروہ کی سہولت کاری میں ملوث تھے اور اگر ٹھوس شواہد سامنے آئے تو انہیں بھی اس کیس میں نامزد کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ مبینہ ہلاک ملزم ایڈووکیٹ علی حسنین اور ان کی اہلیہ پی ٹی آئی رہنما لیلیٰ پروین کا ڈرائیور تھا، گاڑی بھی اسی فیملی کی تھی، دونوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان کے ڈرائیور کو جعلی مقابلے میں مارا ہے اور عباس کا ڈکیتوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ایک غلط گیند

آپ اگر موجودہ سیاسی حالات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو دو شخصیات اور مضبوط ترین ادارے کا تجزیہ کرنا ہو گا‘ پہلی شخصیت عمران خان ہیں‘ عمران خان کے تین پہلو ہیں‘ یہ فاسٹ بائولر ہیں‘ عمران خان نے 20سال صرف بائولنگ کرائی اور بائولنگ بھی تیز ترین چناں چہ یہ فاسٹ بائولنگ ان کی شخصیت کا ....مزید پڑھئے‎

آپ اگر موجودہ سیاسی حالات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو دو شخصیات اور مضبوط ترین ادارے کا تجزیہ کرنا ہو گا‘ پہلی شخصیت عمران خان ہیں‘ عمران خان کے تین پہلو ہیں‘ یہ فاسٹ بائولر ہیں‘ عمران خان نے 20سال صرف بائولنگ کرائی اور بائولنگ بھی تیز ترین چناں چہ یہ فاسٹ بائولنگ ان کی شخصیت کا ....مزید پڑھئے‎