جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ملازمین کی موجیں لگ گئیں حکومت پاکستان نےکن ملازمین کو فی کس 23لاکھ روپے دینے کا اعلان کر دیا‎

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) حماد اظہر نے کہاکہ ساڑھے نو ہزار ملازمین کو اوسطاً 20 سے 23 لاکھ روپے ادا ادا کیا جائے گا۔انہوں نین کہاکہ اگر بروقت فیصلے کیے جاتے تو یہ رقم سٹیل ملز پر لگانے کے بجائے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جاتی۔انہوکں نے کہاکہ اسٹیل ملز کی زمین کو فروخت نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہاکہ مکمل شفافیت کے ساتھ سٹیل ملز کی نجکاری کا عمل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ سرکاری ملکیت کے اداروں کے کل نقصانات 2000 سے تجاوز کر چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ معیشت میں ترقی کیلئے مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ ساڑھے پانچ سال سے بند سٹیل ملز کے ملازمین کو ہر مہینے 75 کروڑ روپے دینا مناسب نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ 2013 سے پہلے کے واجبات والے پنشنرز کو 24 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے دور میں 47 سو افراد کو قانون کے برعکس ریگولر کیا گیاانہوں نے کہاکہ ہم نجی شعبے سے تجربہ، ٹیکنالوجی کو لانا چاہتے ہیں۔پہلے مرحلے میں نو ہزار ملازمین میں سے ساڑھے چار ہزار کو برخاست کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ملازمین کی تعداد میں 95فیصد تک کمی لانی ہے۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں سرکاری ملکیت کے اداروں میں سیاسی بھرتیاں کی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کا کام ایسا ماحول فراہم کرنا ہے کہ روزگار پیدا ہو،سندھ حکومت کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بولی کے عمل میں شریک ہو،عام نیلامی کے زریعے پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…