اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کی موجودگی میں امن و خوشحالی نہیں آ سکتی، ان کے خطرناک مقصد سے آگاہ کر دیا گیا

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہا آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کی موجودگی میں دنیا میں کبھی امن اور خوشحالی نہیں آ سکتی نہ بھوک اور جہالت کا خاتمہ ممکن ہے۔ ان اداروں کا ظاہری مقصد غریب

ممالک کی امداد ہے جبکہ حقیقی مقصدعالمی سطح پر مغربی ممالک کے مفادات کی تکمیل اور انکی اجارہ داری کو طول دینا ہے جس کے لئے غریب ممالک کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایف اے ٹی ایف مغربی بلاک کے بنائے ہوئے تمام ادارے غربت میں اضافہ کر رہے ہیں۔1960 سے اب تک ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی فی کس آمدنی کے فرق میں 400فیصد اضافہ ہوا ہے جو اس وقت تک بڑھتا رہے گا جب تک یہ ادارے اپنی نو آبادیاتی پالیسیاں جاری رکھیں گے جس نے عالمی تجارتی نظام کو غیر متوازن کر رکھا ہے۔ان اداروں میں جمہوریت کا نام و نشان نہیں ہے اور انھیں ڈکٹیٹرشپ کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سربراہوں کو الیکٹ نہیں سلیکٹ کیا جاتا ہے اور ووٹ کا نظام بھی ایسا بنایا گیا ہے جو مغربی ممالک کے حق میں جاتا ہے جس سے دنیا کے مسائل میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔دنیا کی 85 فیصد آبادی جو مغربی ممالک پر مشتمل نہیں ہے کوووٹنگ کے پراسس میں بھی کھڈے لائن لگایا ہوا ہے۔اگر امیر اور غریب ممالک کے ووٹوں کا جائزہ لیا جائے توان اداروں میں ایک برطانوی ووٹ بنگلہ دیش کے 41 ووٹوں کے برابر ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق برطانیہ نے 1765 سے لے کر 1938 تک ہندوستان سے 45 کھرب ڈالر

اپنے پاس منتقل کئے جو اسکے آج کے جی ڈی پی سے17گنا زیادہ ہیں۔ اس سے برطانیہ نے ترقی کی جبکہ ہندوستان کے رہنے والوں کی آمدنی نصف سے بھی کم رہ گئی جبکہ غریب ممالک جن کے خام مال اور مزدوروں کے بغیر امیر ممالک کا نظام نہیں چل سکتا کے ساتھ آج بھی یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…