ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

وزارت پٹرولیم میں غلط منصوبہ بندی سے 122ارب روپے کا نقصان ،تشویشناک بات سامنے آ گئی

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن)امیرجماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب و صدر ملی یکجہتی کونسل پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ حکومتی وزراء مسلسل جھوٹ بول کر قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ وزارت پٹرولیم میں غلط منصوبہ بندی سے 122ارب روپے کا نقصان تشویشناک ہے۔ اس حوالے سے فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرتے ہوئے ذمہ داران سے ایک ایک پائی وصول

کرنی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزمختلف عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاخیر سے ہونے والے فیصلوں کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ جو کہ حکمرانوں کی نااہلی کا منہ بولتاثبوت ہے۔ 2018سے 2020تک تین سالوں میں ایل این جی ٹرمینل کو پورا استعمال نہیں کیا گیا جس سے ماہرین معیشت 125ارب روپے کے مزیدنقصان کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو عوامی مسائل اور ان کے حل سے کوئی سروکار نہیں۔ دونوں نے ہی مواقعے ملنے پر عوام کو لوٹا ہے۔ ملک میں صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی ایسی جماعت ہے جو 22کروڑ عوام کی حقیقی ترجمانی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے عاقبت نا اندیش فیصلوں کی بدولت ملک میں امیر اور غریب کے درمیان تفریق تیزی سے بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ عالمی ادارے اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ ترسیلات زر وصول کرنے والے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ عوام سطح غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ 2020کے اختتام تک چار لاکھ سے زائد افراد سطح غربت سے نیچے چلے جائیںگے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ گیس کمپنیوں کا گردشی قرضہ 192ارب ہوگیا ہے جس سے بجلی مہنگی کرنے کے اشارے مل رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکمرانوں نے بے حسی کی چادر اوڑھ لی ہے۔ انہیں عوامی مشکلات سے کوئی غرض نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…