اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے حتمی منظوری باقی، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کیلئے 2 نام سامنے آ گئے

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

گلگت(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے امجد زیدی گلگت بلتستان اسمبلی کے اسپیکر اور نذیر احمد ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے۔گللگت بلتستان اسمبلی کے 33 اراکین اسمبلی نے ووٹ ڈالے۔ امجد زیدی نے 18 ووٹ حاصل کیے جبکہ ا اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ امیدوار اور پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے غلام محمد کو 8 ووٹ ملے۔ دوسری جانب تحریک

انصاف نے گلگت بلتستان کے لئے وزیراعلیٰ کے دو نام شارٹ لسٹ کر لئے ہیں یہ دو شخصیات بیرسٹر خالد خورشید اور فتح اللہ خان ہیں، نامزدگی کی حتمی منظوری وزیراعظم عمران خان دیں گے۔ واضح رہے کہ اسپیکر کے انتخاب کے لیے ڈالے گئے ووٹوں میں سے 6 ووٹ مسترد ہو گئے۔سابق اسپیکر فدا محمد ناشاد نے نو منتخب اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی سے عہدے کا حلف لیا۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے نذیر احمد 22 ووٹ لیکر گلگت بلتستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے۔ ڈپٹی اسپیکر کے لیے متحدہ اپوزیشن کے امیدوار رحمت خالق نے 9 حاصل کیے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز گلگت بلتستان اسمبلی کے نو منتخب اراکین نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا تھا۔اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی حاجی فدا محمد ناشاد نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا تھا۔ حلف برداری اسمبلی حال گلگت میں منعقد ہوئی تھی۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے تمام 33 اراکین نے عہدے کا حلف اٹھالیا تھا۔گلگت بلتستان اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف 16 جنرل اور 4 مخصوص نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے دو مخصوص نشستوں سمیت 5 نشستیں حاصل کی ہیں۔ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین دو نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔اسی طرح پاکستان مسلم لیگ نواز نے خواتین کی ایک مخصوص نشست سمیت 3 نشستیں حاصل کی ہیں۔ انتخابات میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت مجلس وحدت المسلمین نے ایک جنرل اور تحریک انصاف کے کوٹے سے ایک ٹیکنو کریٹ اور ایک خاتون نشست حاصل کی ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی میں قوم پرست تنظیم بالاورستان نیشنل فرنٹ کی ایک سیٹ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…