بھارت کے 9 بجے حملے کی رپورٹ بالکل ملی تھی، پھر پاکستان نے بھارت کو ایسا کیا پیغام دیا کہ وہ حملے سے رک گیا؟ اسد عمر کے تہلکہ خیز انکشافات

  جمعرات‬‮ 29 اکتوبر‬‮ 2020  |  19:33

اسلام آباد(این این آئی+ مانیٹرنگ)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ن لیگ کے مرکزی رہنما ایاز صادق کی جانب سے دیے جانے والے بیان کو حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے استفسار کیا کہ سفید جھوٹ کس کو خوش کرنے کے لیے بولا جا رہا ہے؟پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اسد عمر نے دعویٰ کیا کہ جس میٹنگ کا ایاز صادق نے ذکر کیا ہےاس میں، میں خود شریک تھا۔پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ اس میٹنگ میں ابھی نندن کی رہائی کی حوالے سے کوئی بات


ہی نہیں ہوئی تھی۔وفاقی وزیر اسد عمرنے کہا کہ ابھی نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ اس سے اگلے دن ہونے والی میٹنگ میں زیر بحث آیا تھا۔پی ٹی آئی کے وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی اسد عمرنے استفسار کیا کہ ایسا سفید جھوٹ کس کو خوش کرنے کے لیے بولا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بھارت کے 9 بجے حملے کی انٹیلی جنس رپورٹ بالکل ملی تھی، وہ حملہ اس لئے رکا کہ بھارت کو پیغام پہنچایا گیا تھا کہ ہمیں حملے کی تیاری کا بھی پتہ ہے اور جواباً اس سے زیادہ کاری ضرب لگانے کی تیاری بھی مکمل ہے۔ ابھی نندن کے جہاز گرنے کے بعد بھارت کو پتہ تھا کہ ہم صرف زبانی دھمکی نہیں دیتے، ایاز صادق صاحب آپ پتہ نہیں کس کے اشارے پر تاریخ مسخ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں لیکن صرف پاکستان نہیں دنیا گواہی دے رہی ہے کے بھارت کے اندھیرے میں چھپ کر بزدلانہ وار کا منہ توڑ جواب دے کر افواج پاکستان نے ایک بار پھر دکھایا کے واقعی اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے۔ اسد عمر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ”بھارت کے 9 بجے حملے کی انٹیلی جنس رپورٹ بلکل ملی تھی. وہ حملہ اس لئے رکا کے بھارت کو پیغام پہنچایا گیا تھا کے ہمیں حملے کی تیاری کا بھی پتہ ہے اور جواباً اس سے زیادہ کاریضرب لگانے کی تیاری بھی مکمل ہے. ابھی نندن کے جہاز گرنے کے بعد بھارت کو پتہ تھا ہم صرف زبانی دھمکی نہیں دیتے۔ایاز صادق کا بیان ایک حیرت انگیز بات ہے. میں اس میٹنگ میں شریک تھا جس کا وہ زکر کر رہے ہیں. وہاں ابھی نندن کی رہائی کی بات ہی نہیں ہوئی تھی. ابھی نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ اس سے اگلے دن پہلی دفعہ زیر بحث آیا تھا. ایساسفید جھوٹ کس کو خوش کرنے کے لئے بولا جا رہا ہے؟ایاز صادق صاحب آپ پتہ نہیں کس کے اشارے پر تاریخ مسخ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں. لیکن صرف پاکستان نہیں دنیا گواہی دے رہی ہے کے بھارت کے اندھیرے میں چھپ کر بزدلانہ وار کا منہ توڑ جواب دے کر افواج پاکستان نے ایک بار پھر دکھایا کے واقعی اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے“۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎