خلائی مخلوق سے اگر آپ زمینی مخلوق بن گئے ہیں تو کیا لوگوں کو سمجھ نہیں آئیگی،یہ صرف مریم پر نہیں بلکہ پوری پی ڈی ایم پر حملہ ہے،جانتے ہیں کھیل کیوں کھیلا گیا،پی ڈی ایم رہنمائوں کا دعویٰ

  پیر‬‮ 19 اکتوبر‬‮ 2020  |  18:49

کراچی (این این آئی)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ کیپٹن (ر)صفدر کی گرفتاری اپوزیشن اتحاد کو تقسیم کرنے کی ساش ہے ،یہ صرف مریم پر نہیں بلکہ پوری پی ڈی ایم پر حملہ ہے، یہ جو نامعلوم افراد ہیں یہ سب کو معلوم ہیں اور خلائی مخلوق سے اگر آپ زمینی مخلوق بن گئے ہیں تو کیا لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی،مریم نواز یہاں آئی ہیں تو پیپلز پارٹیمیزبان ہے، جس کی مدعیت میں ایف آئی آر کٹی، وہ مدعی کون ہے ہم عوام کو بتائیں گے،ہم بچے نہیں ہیں سب سمجھتے ہیں کہ


یہ کھیل کیوں کھیلا گیا،حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں، بلاول بھٹو، آصف زرداری کو اس واقعے سے دکھ پہنچا ہے،وزیراعلی سندھ کو اس معاملے سے بے خبر رکھا گیا جس کے بعد واضح ہوگیا ہے حکومت کس کی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ،مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز شریف اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے پیر کو مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور اس کے بعد عدالت پیشی کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مریم نواز، اختر مینگل، میاں افتخار، اویس نورانی، راجہ پرویز اشرف، پرویز رشید، مریم اورنگزیب اور راشد محمودسومرو سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔ اجلاس میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر بات چیت اور مشاورت کی گئی۔اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ڈی ایم کے رہنما کیپٹن صفدر کو ہوٹل سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب ان کی اہلیہ بھی وہاں موجود تھی۔انہوں نے کہا کہ رینجرز نے ان کے کمرے پر دھاوا بولا اور دروازہ توڑا، کیاہمارے معاشرے میں ایک خاتون کی یہ عزت ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت سندھ نے اس حوالے سے اپنا موقف دیا ہے کہ وزیراعلی کو اس معاملے سے بے خبر رکھا گیا جس کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ حکومت کس کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کے جانے کا وقت آگیا ہے کیونکہ آخری وقت میں اسی طرح کے حربے آزمائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ میری بلاول بھٹو سے بھی بات ہوئی ہے اور یہاں پر پی پی پی کے سینئر نائب صدر راجا پرویز اشرف اور صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ بھی موجود ہیں جس سے ان لوگوں کے عزائم خاک میں مل گئے ہیں جن کا خیال تھا کہ پی ڈی ایم میں دراڈ پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے خانہ کعبہ میں نواز شریف کے خلاف نعرے لگائے اور تقدس پامال کیا۔مولانا فضل الرحمننے کیپٹن (ر) صفدر کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ا س موقع پر مریم نواز نے کہا کہ پی ڈی ایم اور دیگر تمام افراد جنہوں نے فون کرکے تشویش کا اظہار کیا ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق انہوں نے کہا کہ صبح 6 بجے کے قریب ہم سو رہے تھے کہ ہمارے کمرے کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا گیا اور جب صفدر نے دروازہ کھولا تو باہرپولیس کھڑی تھی اور انہوں نے کہا کہ گرفتار کرنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صفدر نے کہا کہ میں واپس آتا ہوں اور یہ کہہ کر اندر آئے تو پولیس اہلکار دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور انہیں گرفتار کرکے لے گئے۔مریم نواز نے کہا کہ بلاول بھٹو نے فون کرکے کہا کہ ہمیں دکھ ہے کہ آپ ہماری مہمان تھی اور اس طرح کا واقعہ پیش آیا اور اسی طرح وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے بھی فونکرکے کہا کہ ہم شرمندہ ہیں کہ اس طرح کا واقعہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ مجھے ایک لمحے کے لیے بھی ایسا نہیں لگا کہ پیپلزپارٹی نے یہ سب کچھ کیا، ہم جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا کھیل کھیلا جارہا ہے۔انہوںنے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ یہ چیزیں ہوگی جس کے لیے ہم تیار ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ مزار قائد میں نعرہ لگا لیکن پی ٹی آئی میں عمران خان کی موجودگی میں ہلڑ بازی کی جس کیویڈیو موجود ہے اور اگر کسی نے مزار قائد پر ان کے ارشاد کے نعرے لگائے اور مادر ملت زندہ باد کے نعرے لگائے تو کیس کیسے بن گیا۔انہوں نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو اور مادر ملت زندہ باد کے نعروں سے کس کو ڈر لگتا ہے میں اچھی طرح جانتی ہوں اور اس نعرے سے ان کو اعتراض ہے جو ووٹ اور عوام کا مینڈیٹ چوری کرکے آئے ہیں، جنہوں نے فاطمہ جناح سے لیکر نوازشریف تک پاکستان کے منتخب نمائندوں کو غدار قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ جو نامعلوم افراد ہیں یہ سب کو معلوم ہے اور خلائی مخلوق سے اگر آپ زمینی مخلوق بن گئے ہیں تو کیا لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی۔مریم نواز نے کہا کہ وقاص احمد کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرایا گیا ہے ان کے خلاف قتل کے مقدمات ہیں، کیا آپ کو ایسے لوگ ملتے ہیں ظاہر ہے انہیں اٹھانا نہیں پڑے گا۔ انہوںنے کہا کہ کیپٹن (ر)صفدر کو اعلی سطح سے دھمکیاں آرہی تھیں، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دھمکیوں سے نواز شریف یا مریم نواز مرعوب ہوگی اور پی ڈی ایم اتحاد میں کوئی فرق آئے گا تو اس کی خام خیالی ہے۔انہوںنے کہا کہ میرے قریبی لوگوں کے ذریعے مجھے بلیک میل کرنے سے بہتر ہے کہ یہاں موجود ہوں کہ اگر ہمت ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔مریم نواز نے کہا کہ مریماورنگ زیب نے بتایا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت ہوگئی ہے تو ہم ساتھ لاہور جائیں گے۔سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور حکومت سندھ اس معاملے پر دکھی ہے، اس طرح کی حرکت ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے، کوئی معاشرہ اس طرح کی شرم ناک حرکت کی اجازت نہیں دیتا ہے۔انہوںنے کہا کہ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، مذمتکا لفظ ہمارے دکھ اور غصے کو کم نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعلی کو اس سے بے خبر رکھا گیا اور ان کے علم میں لائے بغیر یہ کام کیا گیا لیکن اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت بوکھلا گئی ہے۔راجا پرویز اشرف نے کہا کہ اس حکومتکے دن گنے جاچکے ہیں، بلاول بھٹو، آصف زرداری کو اس واقعے سے دکھ ہے، مریم نواز ہماری مہمان تھی، سندھ کی ثقافت ہے اپنے مہمان کی خاطرداری کی جاتی ہے اس لیے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی گئی اور تحقیقات کی جائیں گی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎