منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان کو پی ڈی ایم کا سربراہ کیوں بنایا؟ فیصلے پرشدید تحفظات کھل کر سامنے آگئے

datetime 6  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)پی ٹی آئی حکومت کیخلاف بننے والے اپوزیشن کے پہلے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کوآغاز میں ہی بعض مشکلات درپیش ہیں، روزنامہ جنگ میں شائع فاروق اقدس کی شائع خبر کے مطابق پہلے جلسے کی تاریخوں اور

انعقاد کے مقام میں تبدیلی نے تینوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف)کے درمیان ایک بارپھر ہم آہنگی کے فقدان کے تاثر کو تقویت دی ہے تو دوسری طرف اقلیتوں کے نمائندوں ، معاشرے کے لبرل طبقات اوربالخصوص عورتوں کی آزادی کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کی عہدیداروں نے اپوزیشن کی تحریک کی سربراہی کیلئے مولانا فضل الرحمن کو منتخب کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات کے بعد پی ڈی ایم نے اٹھارہ اکتوبر کو کوئٹہ کی بجائے کراچی میں منعقد کر نے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کی سٹیرنگ کمیٹی کااجلاس ہوا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات کے بعد پی ڈی ایم نے پہلا جلسہ کوئٹہ کی بجائے کراچی میں کر نے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کے مطابق اٹھارہ اکتوبر کراچی میں ہونے والے جلسے کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی کریگی۔

اجلاس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل اور راجہ پرویز اشرف سینئر نائب صدر نامزد کئے گئے۔ اجلاس میں مشاورت کے مطابق کراچی کے بعد دوسرا جلسہ 25اکتوبر کو کوئٹہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

احسن اقبال نے بتایاکہ اتفاق رائے سے پی ڈی ایم کے سینئر نائب صدر راجا پرویز اشرف جبکہ سیکرٹری جنرل شاہد خاقان عباسی ہونگے ۔ انہوںنے کہاکہ سیکرٹری اطلاعات میاں افتخار ہونگے۔ احسن اقبال نے جلسوں کے شیڈول بارے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ 16 اکتوبر گوجرانولہ، 18 اکتوبر کو کراچی میں جلسہ ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ کوئٹہ میں 25 اکتوبر کو عظیم الشان جلسہ ہوگا ،22 نومبر کو پشاور، 30 نومبر کو ملتان میں جلسہ ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ 13 دسمبر کو سب سے بڑا جلسہ لاہور میں ہوگا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…