پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس ، ملزم عابد علی ملہی تو نہ پکڑا گیا لیکن پیمرا نے میڈیا کو حیران کن حکم دے دیا

datetime 3  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت کے بلند بانگ دعوے ابھی تک کام نہیں دکھاسکے ، لاہور سیالکوٹ موٹر وے کا کیس کا مرکزی ملزم عابد علی ملہی تاحال گرفتار نہیں ہو سکا ہے دوسری جانب پیمرا نے الٹا میڈیا پر ہی پابندیاں عائد کر دی ہیں کہ موٹر وے کیس کی میڈیا کوریج نہیں کرنی، پیمرا کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ زیادتی سے متعلق کیس ہے اس کیس کی میڈیا

کوریج سے متاثرہ خاتون اور اس کے خاندان کی بدنامی کا خدشہ ہے اس وجہ سے اس کیس پر چیئرمین پیمرا میڈیا کوریج پر پابندی لگا رہا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سیٹلائٹ (نیوز اور کرنٹ افیئر) چینل مستقبل میں اس کیس سے متعلق کوریج نہ کریں بصورت دیگر متعلقہ چینل کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب پولیس اطلاع ملنے کے باوجود عابد علی کو گرفتار نہ کر سکی۔ موٹروے کیس کا اہم ملزم عابد علی ملہی ایک بار پھر پولیس کو چکمہ دے گیا۔ مرکزی ملزم عابد علی اپنی سالی کو ملنے ننکانہ صاحب آیا تھا۔پولیس اطلاع ملنے کے باوجود عابد علی کو گرفتار نہ کر سکی۔ عابد علی کی سالی نے محلے دار کی مدد سے پولیس کو اطلاع دی لیکن پولیس ایک بار پھر عابد علی کو گرفتار کرنے میں ناکام ہو گئی۔پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر عابد علی قبرستان کے راستے سے فرار ہو گیا۔ اب تک پولیس کا5 بار عابد علی سے آمنا سامنا ہو چکا ہے۔اس سے قبل 19 ستمبر کو بھی پنجاب پولیس موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کو 10 فٹ کے فاصلے سے پکڑنے میں ناکام رہی ۔ پولیس کو ملزم عابد علی کی سالی کے گھر موجودگی کی اطلاع ملی، اس کے باوجود پولیس 30 منٹ تاخیر سے وہاں پہنچی۔ملزم عابد علی اپنی سالی کیساتھ ایک پارک میں موجود تھا جب پولیس نے اسے پکڑنے کی کوشش کی۔ پولیس اہلکاروں نے جیسے ہی عابد علی پر ہاتھ ڈالا، ملزم اہلکاروں کو دھکا دے کر فرار ہوگیا۔

عابد علی کی سالی کی جانب سے بتایا گیا کہ عابد ننکانہ صاحب کے رائے بلار بھٹی پارک میں میرے ساتھ موجود تھا جب پولیس نے چھاپہ مارا لیکن ملزم پھر بھی فرار ہوگیا۔اس سے قبل پنجاب پولیس کی بدترین نااہلی کی وجہ سے سانحہ گجر پورہ کا مرکزی ملزم قصور میں بھی گرفتار ہونے سے بچ گیا تھا۔ پولیس کو اطلاع ملی کہ ملزم قصور کی تحصیل

راجہ جنگ میں اپنے رشتے دار کے گھر آئے گا۔ انٹیلی جنس رپورٹ ملنے کے بعد پولیس کے کچھ افسران اور اہلکار عابد علی کے رشتے دار کے گھر جا کر بیٹھ گئے۔ عابد علی جب رشتے دار کے گھر کے دروازے پر پہنچا تو اسے پولیس کی موجودگی کا شک ہوا، ملزم گھر میں داخل ہونے کی بجائے پولیس کے سامنے سے فرار ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…