جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے اربوں کی کرپشن ختم کرنے کیلئے ملکی معیشت کو کھربوں کا نقصان پہنچایا،تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 30  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی (آن لائن) مرکزی جمعیت اہل حدیث سندھ کے امیر اور اہل حدیث ایکشن کمیٹی کے سرپرست مفتی محمد یوسف قصوری نے کہا ہے کہ حکومت نے اربوں کی کرپشن ختم کرنے کے لئے ملکی معیشت کو کھربوں کا نقصان پہنچادیا، دعووں،

تقریروں اور بیانات سے ملکی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ غربت جس انتہا کو اب پہنچی ہے ماضی میں کبھی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزراء مسلسل غیر سنجیدگی دکھا رہے ہیں۔ مفتی یوسف قصوری نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام عملی اقدامات اور نظر آنے والا ریلیف چاہتے ہیں اور حکومت ہر برائی پچھلی حکومتوں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک زور زبردستی اور جبر سے کچلنے کی کوشش قابل مذمت ہے، اپوزیشن جماعتیں این آر او حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ عوام میں عزت حاصل کرنے کے لئے حکومت کے خلاف تحریک چلا رہی ہیں۔ مفتی یوسف قصوری نے مزید کہا کہ موجودہ ابتر ملکی صورتحال میں بھی اگر اپوزیشن نہ کھڑی ہوتی تو حکو مت کے ساتھ اپوزیشن بھی عوامی نفرت کا نشانہ بن جاتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…