ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

گیس کی قلت اب ایسے پوری ہو گی حکومت نے عوام کو خوشخبری سنادی

datetime 30  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے تیل و گیس سیکٹر میں نجی شعبہ کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گیس شارٹ فال ایل این جی کے ذریعے ہی پورا کیا جا سکتا ہے ۔ گزشتہ روز ملک کی پہلی نجی گیس کمپنی یوڈی سی جی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا ویژن نجی شعبہ کیلئے

آسانیاں پیدا کرنا ہے ، اگر تمام اجارہ داری سرکاری اداروں میں رکھیں گے تو معیشت کا پہیہ جام ہر کر رہ جائے گا، اگر نجی شعبہ صارفین کو سستی گیس فراہم کر سکتا ہے تو حکومت حوصلہ افزائی کرے گی ۔ انہوں نے کہا حکومتی گیس کمپنیوں کو بتا دیا ہے کہ وہ ناکام ہو چکی ہیں ، اگر ان کمپنیوںکا حریت ہوتا تو صارفین کو پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا ، سندھ نے 17کلو میٹر کی ایل این جی لائن کے رائٹ آف وے کی حامی بھری ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے،سبسڈی کے نظام کو منصفانہ، شفاف اور مستحقین تک موثر طریقے سے پہنچانے کے نظام پر خصوصی توجہ دی جائے۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات میں پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء اسد عمر، عمر ایوب، میاں محمد سومرو، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاونین خصوصی شہزاد قاسم، ندیم بابر اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔اجلاس میں توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے اوراس حوالے سے مختلف اہداف کے حصول کے لئے مقرر شدہ ٹائم فریم کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں کیے

جانے والے مہنگی بجلی کے معاہدوں کے بوجھ سے نہ صرف عام آدمی اور صنعتی شعبہ متاثر ہوا ہے بلکہ سستی بجلی فراہم کرنے کی کوشش میں گردشی قرضوں کا پہاڑ کھڑا ہوگیا ہے جس کا سارا بوجھ سرکاری خزانے پر پڑ رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ سبسڈی کے نظام کو منصفانہ، شفاف اور مستحقین تک موثر طریقے سے پہنچانے کے نظام پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے

ہدایت کی کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے بجلی کی پیداوار، ضروریات، سال کے مختلف مہینوں میں استعمال میں اتار چڑھاؤ کی شرح، پیداواری لاگت، فروخت اور ریونیو اور بجلی کے نرخوں کی وجہ سے دیگر شعبوں پر اثرات سمیت مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر حکمت عملی اور روڈ میپ کا تعین کیا جائے تاکہ نہ صرف اس شعبے کو بحران سے نکالا جا سکے بلکہ ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے کہ تمام شعبہ جات کی توانائی کی ضروریات احسن طریقے سے پوری کی جا سکیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…