طلال چودھری معاملے پر ن لیگی خاتون رہنما عائشہ رجب بلوچ نے عوام کو حیران کن سرپرائز دیدیا

  پیر‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2020  |  13:35

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) فیصل آباد میں چار افراد کے حملے میں طلال چوہدری کے زخمی ہونے کی تفتیش آگے نہ بڑھ سکی ، لاہور پولیس طلال چوہدری کا بیان لینے اسپتال پہنچی تاہم طلال اسپتال چھوڑ کر اسلام آباد پہنچ گئے ۔ پولیس متاثرہ خاتون ایم این اے کا بیان بھی اس لیے نہیں لے سکی کہوہ بھی فیصل آباد سے اسلام آباد چلی گئیں ۔ ادھر رکن اسمبلی عائشہ رجب نے کہا کہ معاملے سے میرا کوئی تعلق نہیں ، میری عزت پر سوال نہ اُٹھایا جائے ۔ ن لیگ کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ


ماں بہنوں کی عزت کرنے کا درس دینے والے ان کی عزتیں میڈیا پر نہیں اُچھالتے۔ تفصیلات کے مطابق طلال چوہدری اسپتال سے ڈسچارج کردیئے گئے،پولیس بیان نہ لےسکی۔ رہنمامسلم لیگ ن طلال چوہدری پر مبینہ تشدد کے معاملے کی انکوئری کیلئے فیصل آباد پولیس کی تحقیقاتی ٹیم بیان ریکارڈ کرنے نجی اسپتال ڈیفنس پہنچی تو پولیس کے اسپتال پہنچے سے قبل ہی طلال چوہدری اسپتال سےروانہ ہو گئے۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بیان ریکارڈ کئے بغیر واپس روانہ ہو گئی،اے ایس پی عبدالخالق کا کہنا ہے کہ آج ہماری طلال چوہدری سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ان سے دوبارہ رابطہ کیا جائے گا۔ عملے نے بتایا کہ طلال کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب خاتون ایم این اے عائشہ رجب علی کا بیان بھی ریکارڈ نہیں کیاجا سکا اور وہ بھی اسلام آباد چلی گئیں۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ جس طریقے سے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر میری ذات سے متعلق بات ہوئی، وہ صرف میری نہیں بلکہ تمام خواتین کی تذلیل ہے۔سماجی رابطے کی سائٹ پرانہوں نے کہاکہ میں بھی ایک ماں ہوں، بہن ہوں، کسی کی بیٹی ہوں اور ایک عزت دار گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں۔انہوںنے کہاکہ میرا کسی معاملے سے کوئی تعلق نہیں، سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے میری عزت پر سوال نہ اٹھایا جائے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎