اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

مدارس کی رجسٹریشن مکمل کر نے ،مدرسہ سکولوں میں انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے فنڈز اور بھرتیوں کی منظوری، انتہائی شاندار فیصلہ

datetime 27  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی) تعلیم اور صحت کے شعبہ میں بہترین خدمات کی فراہمی حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔محض فنڈز کا حصول اور نئی بھرتیوں کی منظوری عوامی مسائل کا حل نہیں ضروری ہے کہ محکمے اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔ ہسپتالوں میں انتظامی امور کی موثر نگرانی اور سرمایہ کاری کی منظم پالیسی وضع کی جائے۔ محکمہ سکول ایجوکیشن مدارس کے انتظامی امور

کے لیے محکمہ میں موجود انسانی وسائل سے بھی استفادہ کرے۔آ ئوٹ پٹ سے خالی منصوبہ جات اور غیر ضروری بھرتیاں خزانے پر بوجھ ہیں۔ مختلف محکموں میں نئی بھرتیوں سے قبل جہاں تک ممکن ہوسرپلس پول سے ضرورت پوری کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے آج وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کمیٹی کے 42ویں اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال، سیکرٹری خزانہ پنجاب عبداللہ سنبل اور چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ شیخ حامد یعقوب بھی موجود تھے۔ اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے 19سے زائد سفارشات پیش کی گئیں۔اجلاس میں محکمہ سکول ایجوکیشن کو منتقل کردہ مدارس اورسکولوں کے لیے ڈویژنل ڈائریکٹوریٹس کے قیام،مستقل ایڈمنسٹریٹرز اورمذہبی درسگاہوں، مدارس اور سکولوں کے انتظامی بورڈز کے لیے فنڈز اور بھرتیوں کی منظوری دی گئی۔ محکمہ صحت کی اٹک میں 200بستروں پر مشتمل ماں اور بچے کی صحت کے سینٹر کے قیام، چکوال میں 500بستروں کے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی سکیم کی رواں مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شمولیت، پنجاب میں وفاقی حکومت کے اشتراک سے محکمہ صحت کی سکیموں کے لیے فنڈز کی فراہمی اور شیخ زید میڈیکل کالج

رحیم یار خان میں 2009میں ایگزیکٹو آرڈر پر بھرتی ہونے والے 846 ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فنڈز کی سفارشات بھی منظور کر لی گئیں۔ تیانجن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں بھرتیوں پر پابندی کے خاتمے کی سفارش کی منظوری کے ساتھ محکمہ صنعت کو یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد کی وضاحت اور اب تک کی آٹ پٹ پر تفصیلی بریفنگ کی ہدایت کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…