طلال چوہدری اور عائشہ رجب علی معاملہ، خاتون ایم این اے کے بھائی نے خاموشی توڑ دی بیان نے معاملے کا رخ ہی موڑ دیا

  ہفتہ‬‮ 26 ستمبر‬‮ 2020  |  16:20

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن) خاتون ایم این اے عائشہ رجب علی کے بھائی کا کہنا ہے کہ ہمارا جھگڑے سے کوئی تعلق نہیں،جبکہ عائشہ رجب نے مزید کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ طلال چوہدری جھگڑے یا حادثے میں زخمی ہوئے ہیں۔اس سے پہلے اردو سیاست نامی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے ن لیگ کی خاتون ایم این اے کے بھائیوں نے طلال چودھری کو پھینٹی لگائی ہےجس کی وجہ سےان کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور وہ لاہور کے نیشنل ہسپتال میں داخل ہیں جہاں پر ان کی سرجری بھی کی گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق خاتون ایم


این اے اور طلال چوہدری کے درمیان ایک طویل تعلق رہا ہے جس کے بعد خاتون ایم این اے نے ان سے دوستی ختم کر کے ایک اور سیاسی رہنما سے تعلقات قائم کر لئے ہیں ۔طلال چوہدری نے اس خاتون ایم این اے کا پیچھا نہ چھوڑا اور ان کے گھر میں گھسنے کی کوشش کی جس پر خاتون ایم این اے کے بھائیوں نے پکڑ کر طلال چوہدری کی پٹائی کر دی ۔ن لیگ کے ذرائع نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ طلال چوہدری کے ہاتھ اور بازو سمیت جسم کے متعدد ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔خاتون ایم این اے کا تعلق بھی فیصل آباد سے بتایا جاتا ہے اور وہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہو کر آئیں تھیں ۔دوسری طرف ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا موقف کہ خاتون ایم این اے کے بھائیوں کی جانب سے طلال چوہدری کونشانہ بنانے کی اطلاعات درست نہیںوہ فیصل آباد جارہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا جس کی وجہ سے ان کے جسم پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ نیشنل ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کررہی ہے اور ن لیگ کی کوشش ہے کہ اس کو کائونٹر کیا جائے ۔دوسری طرف ذرائع نےیہ بھی کہا ہے کہ اس خاتون ایم این اے نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور مریم نواز کو تمام صورت حال سے آگاہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایم این اے نہیں رہنا چاہتی تاہم ن لیگ ان کا استعفیٰ چھپا رہی ہے اور معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔دوسری طرف فیصل آباد پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی ویڈیو بھی بنائی گئی ہے جو ان کے پاس موجود ہے لیکن پولیس اس واقعہ کی مزید تفصیلات اور وجوہات بتانے سے گریزاں ہے ۔


زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎