غلام قومیں اپنی حیثیت اور وقار کھو بیٹھتی ہیں، نیب کے ذریعے ہمیں ڈرانے کی کوشش نہ جائے، مولانا فضل الرحمان کا حکومت کے جلد خاتمے کا اعلان

  ہفتہ‬‮ 26 ستمبر‬‮ 2020  |  0:00

جیکب آباد(این این آئی) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے حکم پر قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کی آزادی چھیننے کے مترادف ہے، نیب کے ذریعے ہمیں ڈرانے کی کوشش نہ جائے نیب سیاستدانوں کو ڈرا رہا ہے جبکہ وہ ہم سے خود ڈر رہا ہے ہم گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والے نہیں، ناجائز حکومت کا جلد خاتمہ کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جے یو آئی ضلع جیکب آباد کے امیر ڈاکٹر اے جی انصاری کی قیادت میں ملنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفد میں


مولانا عبدالجبار رند، حاجی عباس بنگلانی، نور خان چھجن، حافظ محمد رمضان سومرو، حافظ عبدالغفار جکھرانی و دیگر شامل تھے۔ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے اگر کسی انسان کی آزادی چھین لی جائے تو غلامی کا طوق ان کے گردن میں ہوتا ہے غلام قومیں اپنی حیثیت اور وقار کھو بیٹھتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے انگریز سامراج کے خلاف جنگیں لڑیںعلماء کرام کو پھانسی پر لگائی گئی اور لاشوںکو درختوںپر لٹکایا گیالیکن ہم اکابر جھکے نہیں اور ڈٹ کر مقابلہ کیا ہم اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غلامی کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ جو قرارداد پیش ہوتی ہے اس پر پاکستان میں قانون سازی کی جاتی ہے ، ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر قانون سازی کرکے ملک کی آزادی کو سلب کیا جارہا ہے ان حالات میں اپوزیشن کے نئے اتحاد سے عوام کی امیدیں وابستہ ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں حقیقی جمہوریت اور آئین کی بالادستی قائم کریں گیاور ملک کو سیاسی و اقتصادی بحرانوں سے نکالیں گے اور ناجائز حکومت کا خاتمہ کرکے عوام کی جائز منتخب حکومت قائم کریں گے۔  نیب کے ذریعے ہمیں ڈرانے کی کوشش نہ جائے


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎