اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

گردشی قرضہ 2.1 کھرب روپے تک پہنچ کر پاور سیکٹر اور ملکی معیشت کے لئے بڑا خطرہ بن گیا، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 25  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گردشی قرضہ 2.1 کھرب روپے تک پہنچ کر پاور سیکٹر اور ملکی معیشت کے لئے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔اگر اس سلسلے کو نہ روکا گیا تو اس کا حجم سالانہ ساڑھے پانچ سو ارب روپے کے حساب سے بڑھتا رہے گااور اگلے چار سال

میں یہ پانچ کھرب روپے تک پہنچ کر ملکی سلامتی کا مسئلہ بن جائے گا۔میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ اس قرضہ پر قابو پانے کے لئے بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکی ہے جبکہ اس سے عوام اور کاروباری برادری پر بوجھ بڑھا ہے جس سے زراعت، صنعت اور برآمدات سمیت ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے اس لئے اس شعبے کی اصلاحات میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ گردشی قرضہ متعدد دیگر اہم اداروں کو بھی مالی بوجھ تلے دبا رہا ہے۔ سابقہ حکومت کے دوران گردشی قرضوں میں ماہانہ 38 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا تھا جبکہ موجودہ حکومت کے وزراء نے بار بار گردشی قرضے کو 10 سے 12 ارب روپے سالانہ تک محدود کرنے کا دعویٰ کیا مگر حقیقت میں یہ 45ارب روپے ماہانہ کے حساب سے بڑھ رہا ہے اور اسے کنٹرول کرنے کے لئے پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت کے لئے ہر مسئلے کا ملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈالنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ انھیں اقتدار سنبھالے ہوئے تیسرا سال شروع ہو رہا ہے۔بجلی کے صارفین یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر سابقہ حکومت کی پالیسیاں غلط تھیں اور ان سے گردشی قرضہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا تو موجودہ حکومت نے اصلاحات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے انہی پالیسیوں کو جاری کیوں رکھا ہوا ہے۔گردشی قرضوں کی وجوہات میں ماضی کے بجلی کی خریداری کے

متنازعہ معاہدے، بڑھتی ہوئی چوری اور لائن لاسز، بلوں کی عدم ادائیگی، کرپشن، بدانتظامی، اقرباء پروری اور بجلی کے نظام میں غیر ضروری سیاسی مداخلت شامل ہیں۔ یہ مسائل ماضی میں بھی تھے اور اب بھی ہیں جن کا حل قلیل اور طویل المعیاد اصلاحات ہیں۔جو ملک غیر ملکی قرضوں کے سہارے چل رہا ہو وہاں ایسی کمزور پالیسیاں اور شاہانہ اخراجات زیب نہیں دیتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…