ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

گردشی قرضہ 2.1 کھرب روپے تک پہنچ کر پاور سیکٹر اور ملکی معیشت کے لئے بڑا خطرہ بن گیا، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 25  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گردشی قرضہ 2.1 کھرب روپے تک پہنچ کر پاور سیکٹر اور ملکی معیشت کے لئے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔اگر اس سلسلے کو نہ روکا گیا تو اس کا حجم سالانہ ساڑھے پانچ سو ارب روپے کے حساب سے بڑھتا رہے گااور اگلے چار سال

میں یہ پانچ کھرب روپے تک پہنچ کر ملکی سلامتی کا مسئلہ بن جائے گا۔میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ اس قرضہ پر قابو پانے کے لئے بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکی ہے جبکہ اس سے عوام اور کاروباری برادری پر بوجھ بڑھا ہے جس سے زراعت، صنعت اور برآمدات سمیت ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے اس لئے اس شعبے کی اصلاحات میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ گردشی قرضہ متعدد دیگر اہم اداروں کو بھی مالی بوجھ تلے دبا رہا ہے۔ سابقہ حکومت کے دوران گردشی قرضوں میں ماہانہ 38 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا تھا جبکہ موجودہ حکومت کے وزراء نے بار بار گردشی قرضے کو 10 سے 12 ارب روپے سالانہ تک محدود کرنے کا دعویٰ کیا مگر حقیقت میں یہ 45ارب روپے ماہانہ کے حساب سے بڑھ رہا ہے اور اسے کنٹرول کرنے کے لئے پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت کے لئے ہر مسئلے کا ملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈالنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ انھیں اقتدار سنبھالے ہوئے تیسرا سال شروع ہو رہا ہے۔بجلی کے صارفین یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر سابقہ حکومت کی پالیسیاں غلط تھیں اور ان سے گردشی قرضہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا تو موجودہ حکومت نے اصلاحات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے انہی پالیسیوں کو جاری کیوں رکھا ہوا ہے۔گردشی قرضوں کی وجوہات میں ماضی کے بجلی کی خریداری کے

متنازعہ معاہدے، بڑھتی ہوئی چوری اور لائن لاسز، بلوں کی عدم ادائیگی، کرپشن، بدانتظامی، اقرباء پروری اور بجلی کے نظام میں غیر ضروری سیاسی مداخلت شامل ہیں۔ یہ مسائل ماضی میں بھی تھے اور اب بھی ہیں جن کا حل قلیل اور طویل المعیاد اصلاحات ہیں۔جو ملک غیر ملکی قرضوں کے سہارے چل رہا ہو وہاں ایسی کمزور پالیسیاں اور شاہانہ اخراجات زیب نہیں دیتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…