منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سی پیک اتھارٹی کے عہدیدار کو خفت اٹھانا پڑگئی

datetime 24  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سی پیک اتھارٹی کے سینئر عہدیدار(چیئرمین نہیں)کو سی پیک پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں خفت اٹھانا پڑگئی اور پچھلی نشست لینا پڑی ، روزنامہ جنگ میں طارق بٹ

کی شائع خبر کے مطابق اس فورم کا حصہ سابق سپیکر اور مسلم لیگ(ن)کے سینئر رہنما ایاز صادق نے بتایا کہ ہم نے نشاندہی کی کہ اس اجلاس میں عہدیدار کی موجودگی غیر قانونی ہے کیونکہ سی پیک اتھارٹی آرڈیننس اب موجود نہیں ہے۔ ہم نے ان سے کہا کہ اگر وہ پارلیمانی پینل کی کارروائی کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ پچھلی نشستوں پر چلے جائیں۔ایاز صادق کے مطابق جب عہدیدار سے پوچھا گیا کہ آیا وہ سی پیک اتھارٹی سے وابستہ ہونے کے لئے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔انہیں بتایا گیا کہ چونکہ سی پیک آرڈیننس ختم ہوچکا ہے اور حکومت نے اس میں توسیع نہیں کی ہے اور نا ہی اسے پارلیمنٹ نے منظور کیا ہے، لہذا پینل کی باضابطہ کارروائی میں ان کی موجودگی غیر قانونی ہے۔ایاز صادق نے کہا کہ کوئی بھی پارلیمانی کمیٹیوں کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے اگر اسے بلایا جائے تو، بصورت دیگر وہ ایسا نہیں کرسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…