پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سی پیک اتھارٹی کے عہدیدار کو خفت اٹھانا پڑگئی

  جمعرات‬‮ 24 ستمبر‬‮ 2020  |  10:46

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سی پیک اتھارٹی کے سینئر عہدیدار(چیئرمین نہیں)کو سی پیک پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں خفت اٹھانا پڑگئی اور پچھلی نشست لینا پڑی ، روزنامہ جنگ میں طارق بٹکی شائع خبر کے مطابق اس فورم کا حصہ سابق سپیکر اور مسلم لیگ(ن)کے سینئر رہنما ایاز صادق نے بتایا کہ ہم نے نشاندہی کی کہ اس اجلاس میں عہدیدار کی موجودگی غیر قانونی ہے کیونکہ سی پیک اتھارٹی آرڈیننس اب موجود نہیں ہے۔ ہم نے ان سے کہا کہ اگر وہ پارلیمانی پینل کی کارروائی کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ پچھلی نشستوں پر چلے جائیں۔ایاز صادق کے


مطابق جب عہدیدار سے پوچھا گیا کہ آیا وہ سی پیک اتھارٹی سے وابستہ ہونے کے لئے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔انہیں بتایا گیا کہ چونکہ سی پیک آرڈیننس ختم ہوچکا ہے اور حکومت نے اس میں توسیع نہیں کی ہے اور نا ہی اسے پارلیمنٹ نے منظور کیا ہے، لہذا پینل کی باضابطہ کارروائی میں ان کی موجودگی غیر قانونی ہے۔ایاز صادق نے کہا کہ کوئی بھی پارلیمانی کمیٹیوں کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے اگر اسے بلایا جائے تو، بصورت دیگر وہ ایسا نہیں کرسکتا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎