سرکاری جامعات سے جعلی ڈگریوں کا اجراء، حیرت انگیز انکشاف، بڑا قدم اٹھا لیا گیا

  بدھ‬‮ 23 ستمبر‬‮ 2020  |  19:44

پشاور(این این آئی)گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں مالی بے ضابطگیوں اور صوبے کی بعض سرکاری جامعات سے جعلی ڈگریوں کے اجرا کاسخت نوٹس لیتے ہوئے کہاہے کہ اعلی تعلیمی اداروں میں مالی نظم وضبط اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔بدھ کے روز یہاں سے جاری ایک بیان میں گورنرشاہ فرمان کا کہناتھاکہ صوبہ کی تمامیونیورسٹیوں کو مالی ضروریات کی بنیاد پر اپنا بجٹ تیار کرنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں اور تمام یونیورسٹیوں کے لئے آڈٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا یونیورسٹیوں میں


مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کیلئے ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کو اعلی تعلیمی اداروں کے بجٹ اخراجات کا مکمل آڈٹ کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مشاورت سے یونیورسٹیوں میں خزانچی/ٹریثرر کی آسامی پر آڈٹ اور اکاؤنٹس گروپ کے آفیسرز تعینات کئے جا رہے ہیں، بدقسمتی سے یونیورسٹیوں میں آڈٹ کا کمزور نظام ہونے کی وجہ سے یونیورسٹیوں کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں غیرقانونی اور اقربا پروری کی بنیاد پر بھرتیاں ہرگزبرداشت نہیں کی جائیں گی اور اس حوالے سے متعدد یونیورسٹیوں میں انکوائری کمیٹیاں تشکیل دے کر تحقیقات جاری ہیں۔گورنر نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں تعلیمی معیار کی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور وہ تمام سرکاری شعبوں کی یونیورسٹیوں میں میرٹ پر مبنی نظام کے قیام کے لئے پرعزم ہیں۔انہوں نے اس بات پربھی زور دیا کہ تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائیگاکیونکہ یہ ہمارے آنے والی نسلوں کے مستقبل کامعاملہ ہے۔ گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا یونیورسٹیزایکٹ2012 میں مجوزہ ترمیم کامقصد صرف اورصرف جامعات میں شفافیت پرمبنی نظام لانا اور خاص طور پرانتظامی امور میں وائس چانسلرز کو مضبوط بنانا مقصود ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎