پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

سرکاری جامعات سے جعلی ڈگریوں کا اجراء، حیرت انگیز انکشاف، بڑا قدم اٹھا لیا گیا

datetime 23  ستمبر‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی)گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں مالی بے ضابطگیوں اور صوبے کی بعض سرکاری جامعات سے جعلی ڈگریوں کے اجرا کاسخت نوٹس لیتے ہوئے کہاہے کہ اعلی تعلیمی اداروں میں مالی نظم وضبط اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔بدھ کے روز یہاں سے جاری ایک بیان میں گورنرشاہ فرمان کا کہناتھاکہ صوبہ کی تمام

یونیورسٹیوں کو مالی ضروریات کی بنیاد پر اپنا بجٹ تیار کرنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں اور تمام یونیورسٹیوں کے لئے آڈٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا یونیورسٹیوں میں مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کیلئے ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کو اعلی تعلیمی اداروں کے بجٹ اخراجات کا مکمل آڈٹ کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مشاورت سے یونیورسٹیوں میں خزانچی/ٹریثرر کی آسامی پر آڈٹ اور اکاؤنٹس گروپ کے آفیسرز تعینات کئے جا رہے ہیں، بدقسمتی سے یونیورسٹیوں میں آڈٹ کا کمزور نظام ہونے کی وجہ سے یونیورسٹیوں کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں غیرقانونی اور اقربا پروری کی بنیاد پر بھرتیاں ہرگزبرداشت نہیں کی جائیں گی اور اس حوالے سے متعدد یونیورسٹیوں میں انکوائری کمیٹیاں تشکیل دے کر تحقیقات جاری ہیں۔گورنر نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں تعلیمی معیار کی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور وہ تمام سرکاری شعبوں کی یونیورسٹیوں میں میرٹ پر مبنی نظام کے قیام کے لئے پرعزم ہیں۔انہوں نے اس بات پربھی زور دیا کہ تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائیگاکیونکہ یہ ہمارے آنے والی نسلوں کے مستقبل کامعاملہ ہے۔ گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا یونیورسٹیزایکٹ2012 میں مجوزہ ترمیم کامقصد صرف اورصرف جامعات میں شفافیت پرمبنی نظام لانا اور خاص طور پر

انتظامی امور میں وائس چانسلرز کو مضبوط بنانا مقصود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…